www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

322854
عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کو پھانسی کی سزا دینے والے ججوں کے پینل کے سینئر رکن منیر حداد نے عراقی آمر کی زندگی کے آخری لمحات کا حال بیان کیا ہے۔
عراق کے سپریم کورٹ میں اپیل کورٹ کے نائب سربراہ منیر حداد نے الفرات ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ھوئے کھا کہ آج بھی میں صدام کو پھانسی کی سزا سنانے کی قیمت چکا رھا ھوں ۔
انھوں نے کھا کہ صدام کی بعث پارٹی کے باقی بچے عناصر مجھے متعدد طریقوں سے پریشان کرتے رھتے ہیں ۔
اسی طرح، جسٹس حداد نے عراق کی قومی سیکورٹی کے سابق مشیر موفق ربیع کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں انھوں نے کھا تھا کہ صدام کی گردن میں پھانسی کا پھندا خود انھوں نے ڈالا تھا اور اسے پھانسی کے تختے پر چڑھایا تھا۔
عراق کے سینئر جج نے کھا کہ موفق ربیع کا اس میں کوئی کردار نھیں تھا کیونکہ وہ نہ تو جج تھے اور نہ ھی اپیل کورٹ کے سربراہ اور نہ ھی وزیر اعظم ۔
انھوں نے مزید کھا کہ جب عدالت نے صدام کی سزائے موت کا فیصلہ سنایا تو وزیر اعظم اور نہ ھی صدر نے اس کی مخالفت کی ۔ انھوں نے کھا کہ میں نے شخصی طور پر صدام کی وصیت لکھی اور صدام سے اس کی آخری خواھش پوچھی ۔
انھوں نے کھا کہ پھانسی سے ٹھیک پھلےجب میں نے صدام سے پوچھا کہ تمھاری آخری خواھش کیا ہے؟ تو صدام نے کھا جیتے رھو بیٹا ۔
جسٹس منیر کا کھنا ہے کہ صدام اس کیس کی سماعت کرنے والے اور تحقیقات کرنے والے تمام ججز کو پھچانتے تھے۔
انھوں نے کھا کہ خود بعثی ھونے کے باوجود صدام نے بعثیوں پر الخلد فوجی چھاونی میں بھت ظلم کئے تھے۔
عراق کے سینئر جج کا کھنا تھا کہ صدام نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا تھا اور اپنےھی ملک کے شھریوں کا قتل عام کیا تھا جس کے لئے سزائے موت کافی نھیں تھی۔

Add comment


Security code
Refresh