www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

302831
اسلامی جمھوریہ ایران نے کھا ہے کہ انسانی حقوق کے نام نھاد علمبردار، نہ صرف یمن پر مسلط کردہ جنگ پر خاموش ہیں بلکہ وہ جارحیت کرنے والوں کو مھلک ھتھیار بھی فراھم کر رھے ہیں۔
اسلامی جمھوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بھرام قاسمی نے یمنی صوبے حجہ پر سعودی اتحاد کی حالیہ فضائی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ھوئے کھا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی دعویدار، یمنیوں پر سعودی عرب کے سنگین جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ بھرام قاسمی نے اپنے ایک بیان میں صوبہ حجہ کے ایک علاقے میں سعودی اتحاد کی حالیہ فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس میں بچوں اور خواتین سمیت بیس افراد شھید ھوئے ہیں۔
انھوں نے یمن کے خلاف جاری جارحیت اور وھاں نھتے عوام کے قتل عام پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظھار کرتے ھوئے مزید کھا کہ یمن میں بچے اور خواتین، کئی برسوں سے قحط سالی اور بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ مغرب کی پشت پناھی میں سعودی اتحاد ان پر ھولناک بمباری کر رھا ہے اور یمن کے مظلوم عام شھریوں کی شھادت، انسانی حقوق کے دعویدار ملکوں کی پیشانی پر کلنگ کا ایک ٹیکہ ہے اور یہ سیاہ دھبہ تاریخ میں ھمیشہ ان کے ریکارڈ میں باقی رھے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کھا کہ انسانی حقوق کے نام نھاد علمبردار نہ صرف یمن پر مسلط کردہ جنگ پر خاموش ہیں بلکہ وہ جارحیت کرنے والوں کو مھلک ھتھیار بھی فراھم کر رھے ہیں اوراسی بنا پر یمنی شھریوں کے قتل عام میں وہ برابر کے شریک ہیں۔
یمن پر جارحیت کی مخالف جماعتوں کے اتحاد نے بھی سعودی اتحاد کی جارحیت میں عورتوں اور بچوں کی ھونے والی شھادت پر اپنے ردعمل کا اظھار کرتے ھوئے اعلان کیا ہے کہ یمن میں جاری قتل عام جارح قوتوں کی وحشیانہ خصلت و ماھیت کی نشاندھی کرتا ہے۔
جارحیت مخالف اتحاد نے بھی تاکید کے ساتھ کھا ہے کہ یمن میں وحشیانہ قتل عام پراقوام متحدہ کی خاموشی، انسانیت کے قتل میں اس عالمی ادارے کے ملوث ھونے کے مترادف ہے۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز مغربی یمن کے صوبے حجہ کے علاقے کشر پر وحشیانہ بمباری کر کے بیس عام شھریوں کو شھید کر دیا جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے امدادی ٹیموں کی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا اور زخمیوں کی مدد کئے جانے میں رخنہ اندازی کی۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی اتحاد کے فوجیوں نے صوبے الحدیدہ پر گولہ باری بھی کی۔ اسی اثنا میں یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے یمن پرجارحیت میں امریکہ و برطانیہ کو ملوث قرار دیتے ھوئے کھا ہے کہ علاقے میں امریکہ و برطانیہ کے اسٹریٹیجک اور سیاسی مفادات مزاحمت کا مقابلہ اور یمن میں جنگ جاری رکھنے میں ھی ہیں تا کہ غاصب صھیونی حکومت کو جتنا زیادہ ممکن ھو سکے تحفظ فراھم کیا جا سکے۔
انھوں نے کھا کہ یمنی قوم اپنے اتحاد و یکجھتی سے دشمنوں کی تمام سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنا دے گی اور وہ دشمنوں کو کبھی کامیاب نھیں ھونے دے گی۔
واضح رھے کہ سعودی عرب نے امریکا اوراسرائیل کی حمایت سے اوراتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوھزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ھزار یمنی شھری شھید اور زخمی ھوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ھوئے ہیں ۔
یمن کا محاصرہ جاری رھنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سھولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔ سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات، اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منھدم کر دیا ہے اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اھداف تک پھنچنے میں بری طرح ناکام ھو گیا ہے۔

Add comment


Security code
Refresh