www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

301430
اسلامی جمھوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بغداد میں عراق کے صدر برھم صالح کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کھا ہے کہ عراق کا استحکام ایران کے لئے اھمیت رکھتا ہے اس لئے کہ مستحکم عراق علاقے میں اھم کردار ادا کر سکتا ہے۔
حسن روحانی نے کھا کہ عراق کو ھم اپنا ایک وطن ھونے کا احساس کرتے ہیں اور ایران و عراق کی قوموں کے تعلقات کا ماضی ھزاروں سال پر محیط ہے اور تھران، بغداد کے ساتھ دینی، ثقافتی،، تاریخی اور علاقائی تعلقات کو ماضی سے کھیں زیادہ مستحکم کرنا چاھتا ہے۔
اس مشترکہ پریس کانفرنس میں عراق کے صدر برھم صالح نے بھی داعش دھشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں عراق کے لئے ایران کی حمایت کی قدردانی کرتے ھوئے کھا کہ عراق و ایران کے تعلقات پورے علاقے کے مفاد میں ہیں۔
انھوں نے کھا کہ ایران کے صدر کا دورہ عراق اس بات تاکید ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات نھایت گھرے اور مستحکم ہیں - عراقی صدر نے تھران و بغداد کے درمیان تعاون میں رکاوٹوں کو دور کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔
اس سے قبل ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق کے صدر برھم صالح سے ملاقات میں کھا کہ ایران کے اسلامی جمھوری نظام کے تمام اراکین، عراق کے ساتھ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے اور مستحکم بنائے جانے کے خواھاں ہیں۔
انھوں نے بینکنگ روابط کی توسیع کو ایران و عراق کے تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کے لئے ایک مضبوط ذریعہ قرار دیا اور کھا کہ قومی کرنسیوں کا استعمال دونوں ملکوں کے سینٹرل بینکوں کی تقویت اور تجارتی تعاون کی توسیع کے علاوہ ھمیں غیر ملکی زرمبادلہ کی ضرورت سے بے نیاز بنا سکتا ہے۔
ایران کے صدر نے کھا کہ دھشت گردوں کے خلاف جنگ ان کی مکمل نابودی تک جاری رھنی چاھئے اور ایران، عراق کے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو میں بھرپور شرکت کرنے کے آمادہ ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے کھا کہ ان کے دورہ بغداد کا پیغام یہ ہے کہ ایران و عراق کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات میں کوئی بھی ملک اثر انداز نھیں ھو سکتا اور دو طرفہ تعلقات کی توسیع و تقویت کے لئے دونوں ملکوں کے رھنماؤں کے عزم و ارادے میں کوئی خلل نھیں ڈال سکتا۔
اس ملاقات میں عراق کے صدر برھم صالح نے بھی ایران و عراق کے تعلقات و تعاون کو مستحکم اور تاریخی قرار دیا اور کھا کہ ھم ایرانی قوم کو اپنا گھرانہ اور ایران کو اپنا دوسرا ملک سمجھتے ہیں۔
عراق کے صدر نے اس بات کا ذکر کرتے ھوئے کہ ایران، حساس دور میں بھت سے عراقیوں کا میزبان بنا رھا ہے اور اس نے داعش دھشت گرد گروہ کے خلاف مھم میں بھرپور مدد و حمایت کی ہے، کھا کہ داعش دھشت گرد گروہ کو شکست دینے میں ایران نے نمایاں کردار ادا کیا ہے اور یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بھت گھرے اور دوستانہ ہیں اور دونوں ھی ممالک اس کے علاوہ اور کچھ نھیں چاھتے کہ دو طرفہ تعلقات کو حتی المقدور فروغ دیا جائے اور خوشگوار رکھا جائے۔
برھم صالح نے کھا کہ علاقے کے تمام ممالک کو چاھئے کہ علاقے کے امن و سلامتی پر توجہ دیں اور علاقے کے سبھی ممالک، دھشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کریں اور یہ کہ سخت حالات میں عراقی عوام کے لئے ایران کی حکومت اور قوم کی بھرپور حمایت کو، کبھی فراموش نھیں کیا جائے گا۔

Add comment


Security code
Refresh