www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

902591
ایران کے وزیر خارجہ نے کھا ہے کہ ایٹمی معاھدے پر عمل کرنے میں یورپی ممالک بھت پیچھے ہیں اور انھیں یہ نھیں سمجھنا چاھئے کہ ایران ان کا منتظر رھے گا۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپ کی جانب سے مالی ٹرانزیکشن سسٹم انسٹیکس کے قیام کو ایٹمی معاھدے کے تحفظ کے لئے ابتدائی قدم قرار دیتے ھوئے کھا ہے کہ ایران میں گذشتہ ھفتے انسٹیکس پر نگرانی سسٹم قائم کر دیا گیا ہے اور اب یورپی ملکوں کے پاس کام میں ٹال مٹول کرنے کا کوئی بھانہ نھیں بچا ہے۔
محمد جواد ظریف نے کھا کہ ایران، یورپ کا منتظر نھیں رھے گا اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات بھت خوشگوار ہیں اور معاملات کی انجام دھی کے نگراں عملی سسٹم کا قیام بھت سے ملکوں کے ساتھ رابطے کے پیش نظر عمل میں آیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے ایران میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے امداد کی ترسیل میں امریکہ کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کھا کہ ایران نے ایسی دستاویزات جمع کی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف ملکوں یھاں تک کہ یورپی ملکوں کے بینکوں تک نے امریکی اقدامات سے خائف ھو کر ایران میں سیلاب زدگان کے لئے انسان دوستانہ امداد قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔
انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ھوئے کہ بین الاقوامی امداد، ضرورت کے مترادف نھیں ھوتی بلکہ یہ عالمی سطح کی جانے والی ھمدردی و یکجھتی کے اظھار کے لئے ھوتی ہے، کھا کہ امریکہ کے تخریبی اور غیر انسانی اقدامات کی بنا پر اس عالمی یکجھتی کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کے شمالی اور وسطی علاقوں میں گزشتہ ھفتوں سے شدید بارشوں کے بعد بھت سے صوبے اور شھر سیلاب کی زد میں آگئے۔ سیلاب کے نیتجے میں کافی نقصان ھو چکا ہے جبکہ سیلاب پر قابو پانے اور متاثرین کی نجات اور بحالی کے لیے امدادی کام ھنگامی بنیادوں پر جاری ہے جس میں ھلال احمر، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان حصہ لے رھے ہیں۔
بارشوں کا یہ سلسلہ سترہ مارچ کو شروع ھوا تھا جس میں پھلے شمالی ایران میں شدید بارشیں ھوئیں جو مسلسل پینتیس گھنٹے جاری رھیں۔
بارش کےپانی اور پھاڑوں پر جمی برف پگھلنے کے نتیجے میں دریاؤں میں طغیانی آ گئی اور صوبے گلستان سیلاب کی لپیٹ میں آ گیا جبکہ گنبد، آق قلا اور گمیشان جیسے اھم و بڑے شھر بھی زیر آب آ گئے۔
پچّیس مارچ کو بھی ایسی بارشیں جنوبی ایران میں شیراز کے علاقے میں ھوئیں جھاں سیلابی پانی کے تیز بھاؤ میں گاڑیاں تک بہ گئیں اور کئی افراد جاں بحق و زخمی ھو گئے۔
ایران کے محکمہ پوسٹ مارٹم کا کھنا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں اب تک چھیہتر افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک اور بیان میں مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کے خطرناک اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ھوئے کھا کہ جب علاقے میں تنازعہ یا کسی مسئلے کی بات ھوتی ہے تو اس کا تعلق رقم یا پیسوں سے نھیں ھوتا۔
محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں مغربی ایشیا میں امریکی سرگرمیوں کو ناجائز صھیونی حکومت کے لئے خدمات کی فراھمی اور وائٹ ھاوس حکام کے غلط فیصلوں پر مبنی قرار دیتے ھوئے کھا کہ ان غلط فیصلوں کے باوجود امریکی حکام کسی اور نتیجے کا انتظار کر ر ھے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ امریکہ نے مغربی ایشیا میں سات ٹریلین ڈالر خرچ کیے جس سے صورت حال خراب ھوئی ہے۔

Add comment


Security code
Refresh