www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

یوگنڈا کے ھزاروں لوگوں نے گزشتہ روز جمعہ کو اھل بیت(ع) انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ شیخ عبد القادر علی موایا کے جلوس جنازہ میں شرکت 

کی جنھیں جمعرات کی شب تکفیری دھشتگردوں نے شھید کر دیا تھا۔
شب جمعہ شیخ عبد القادر کو اس وقت تکفیریوں نے گولی مار کر شھید کر دیا جب وہ دعائے کمیل کے بعد اپنے انسٹی ٹیوٹ سے گھر واپس جا رھے تھے۔
تشییع جنازہ میں شیعوں اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاھب کے ماننے والوں اور سیاسی رھنماوں نے بھی شرکت کی۔
شیخ عبد القادر نے دو سال قبل یوگنڈا میں ایرانی کلچر ھاوس والوں سے یہ بات کھی تھی: مجھے ایک تمنا ہے کہ میں رھبر انقلاب کی زیارت کر سکوں لیکن مجھے یہ توفیق نھیں مل پا رھی ہے لھذا میں یھیں سے آپ سے گزارش کرتا ھوں کہ میرا سلام ان تک پھنچا دیں۔
انھوں نے مزید کھا تھا: میں امام خمینی(رہ) کی شخصیت سے بھت مرغوب ھوں اور میں نے ان کی بعض کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے اور ایک کتاب "جھاد اکبر" کا یھاں کی زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔
واضح رھے کہ شیخ عبد القادر نے کینیا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور انھوں نے مشرقی یوگنڈا میں ۵۰ مساجد، دینی مدرسے اور دینی مراکز قائم کئے ہیں۔
شیخ عبد القادر کے بیٹے ڈاکٹر عمر بونگو اس ملک کے شھر بونیا کے گورنر اور مشرقی آفریقہ میں اس ملک کے صدر جمھوریہ کے نمائندہ بھی ہیں اور یہ مشرقی افریقہ میں پھلے وہ شیعہ ہیں جو اتنی بڑی پوسٹ پر فائز ہیں۔
 

Add comment


Security code
Refresh