www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

سعودی عرب کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر تین سال کی قید اور جسمانی و نفسیاتی ٹارچر برداشت کرنے کے بعد آخرکار شھادت کے مرتبے پر فائز ھوگئے۔

اس مجاھد اور مخلص عالم دین کی شھادت کی خبر نے عالم اسلام خاص طور پر شیعہ اور سنی علماء کرام کے اندر غم و غصے کی لھر دوڑا دی۔
آل سعود رژیم اور خاندان کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والا یہ پھلا مجرمانہ اقدام نہ تھا بلکہ گذشتہ کئی عشروں سے عالم اسلام اس خاندان سے پیٹھ میں خنجر کھاتا چلا آرھا ہے۔ دین مبین اسلام دوسرے بڑے دین کے طور پر یورپ میں انتھائی تیزی سے پھیل رھا تھا، جب مغربی ممالک اور غاصب صھیونی رژیم کے جاسوسی اداروں کی جانب سے سعودی مالی تعاون اور تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعے اسلام کے نام پر دھشت گرد گروہ تیار کئے گئے اور انھوں نے عملی طور پر اسلام کی اعلٰی اقدار اور جڑوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔
کون ہے جو یہ نہ جانتا ھو کہ طالبان افغانستان میں سعودی عرب کی مالی امداد کے ذریعے برسراقتدار آئے اور سعودی حکومت پھلی حکومت تھی، جس نے طالبان کی سربراھی میں افغانستان پر قائم ھونے والی "امارت اسلامی" کو قبول کیا۔
اسی طرح گذشتہ تین سالوں سے شام میں جو کچھ ھو رھا ہے، اس میں بھی سعودی حکومت ملوث ہے۔ آج دنیا کے بیدار ضمیر لوگ جان چکے ہیں کہ "داعش"، "النصرہ فرنٹ" اور "احرار الشام" جیسے تکفیری دھشت گرد گروہ سعودی حکومت کی براہ راست یا بالواسطہ مدد سے عراق اور شام میں بے گناہ مسلمانوں کا خون بھانے میں مصروف ہیں۔
سعودی رژیم نے بحرین میں اپنے فوجی دستے بھیج کر اس ملک پر فوجی قبضہ جما رکھا ہے اور کئی سالوں سے وھاں بیگناہ مسلمان شھریوں کے قتل کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
آل سعود رژیم نے یمن کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے اور دس ماہ سے یمن کے نھتے شھریوں پر بم برسا رھی ہے۔ عالم اسلام میں سعودی اقدامات کا نتیجہ سوائے دھشت گردی اور قتل و غارت کے کچھ اور نھیں نکلا۔ سعودی رژیم نے جاھلانہ عرب دور کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔
سعودی اقدامات کے نتیجے میں اسلامی ممالک کے لاکھوں شھری بے گھر ھو کر نقل مکانی پر مجبور ھوگئے ہیں جبکہ دنیا والوں کے نزدیک بھی دین مبین اسلام کا خوبصورت چھرہ مسخ ھو کر رہ گیا ہے۔
سعودی حکام نے فرقہ وارانہ اور اسلام دشمن اقدامات کو جاری رکھتے ھوئے ایک مجاھد، صالح اور مخلص عالم دین کا سر تن سے جدا کر دیا اور اس طرح آل سعود کا حقیقی چھرہ کھل کر سامنے آگیا۔
سعودی رژیم نے آیت اللہ باقر النمر جیسے عظیم انسان کی شھادت سے توجہ ھٹانے کیلئے اسلامی جمھوریہ ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا اور ایران کے خلاف بھرپور منفی پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا۔ بعض چھوٹے عرب ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی پیروی کرتے ھوئے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لینے سے ظاھر ھوتا ہے کہ یہ سب کچھ پھلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انجام پایا ہے، جس کا فائدہ صرف اور صرف اسرائیل کی غاصب صھیونی رژیم کو پھنچ رھا ہے۔
اسلامی جمھوریہ ایران ھرگز اسلامی ممالک سے تعلقات بگاڑنا نھیں چاھتا اور اب تک ایران نے سعودی حکومت کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے مقابلے میں انتھائی صبر و تحمل کا مظاھرہ کیا ہے۔
سعودی رژیم نے ایک عرصے سے ایران کے خلاف تیل کی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ سعودی حکومت نے امریکہ اور اسرائیل کی شھہ پر خام تیل کی پیداوار بڑھا کر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم سطح پر رکھنے کی پالیسی اختیار کی ھوئی ہے، لیکن وہ شاید بھول گیا ہے کہ اسلامی جمھوریہ ایران نے اس سے زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ 8 سالہ عراق ایران جنگ کے دوران تمام عرب ممالک عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ کھڑے تھے اور سعودی حکام تیل سے حاصل ھونے والے ڈالرز صدام حسین کی جیب میں ڈال رھے تھے۔ لیکن ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود صدام حسین ایران کا کچھ نھیں بگاڑ سکا۔ لھذا عرب حکام کو جان لینا چاھئے کہ اس بار بھی ان کے منصوبے ناکامی کا شکار ھوں گے۔
دنیا بھر کے مسلمان اور آزادی پسند انسان اچھی طرح جان چکے ہیں کہ آج آل سعود رژیم کی جانب سے انجام پانے والے اقدامات کا فائدہ صرف اور صرف اسرائیل کو ھو رھا ہے اور سعودی حکام اسرائیل کے تعیین کردہ راستے پر گامزن ہیں۔ دوسری طرف مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں دوغلی پالیسیاں اختیار کئے ھوئے ہیں اور سعودی اقدامات پر آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ انھیں نائیجیریا میں ھونے والا شیعہ مسلمانوں کا قتل عام بھی نظر نھیں آتا۔ مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی یہ مجرمانہ خاموشی اس حقیقت کو ظاھر کرتی ہے کہ سعودی عرب سے ملنے والے تیل نے انھیں اندھا، بھرا اور گونگا کر دیا ہے اور مظلوموں کی آہ و زاری ان کے کانوں پر نھیں پڑتی۔
وہ یمن، بحرین، شام، عراق، لبنان اور دیگر اسلامی ممالک میں آل سعود رژیم کی جارحیت اور دھشت گردانہ اقدامات کو دیکھنے سے بھی عاجز ھوچکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نھیں کہ امت مسلمہ اس مشکل مرحلے کو بھی کامیابی سے عبور کرتے ھوئے اسلام دشمن سازشوں کو ناکام بنا دے گی۔
تحریر: کرم حمدی
 

Add comment


Security code
Refresh