فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Thursday, 24 September 2020

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

0134
جس ذوالقرنين كا قرآن مجيد ميں ذكر ہے،تاريخى طور پر وہ كون شخص ہے،تاريخ كى مشہور شخصيتوں ميں سے يہ داستان كس پر منطبق ہوتى ہے،اس سلسلے ميں مفسرين كے مابين اختلاف ہے۔ اس سلسلے ميں جو بہت سے نظريات پيش كيے گئے ہيں ان ميں سے يہ تين زيادہ اہم ہيں۔( پہلا:بعض كا خيال ہے كہ''ا سكندر مقدوني'' ہى ذوالقرنين ہے﴾

0131
چند قريشيوں نے رسول اللہ (ص) كو آزمانا چاہا،اس مقصد كے لئے انہوں نے مدينے كے يہوديوں كے مشورے سے تين مسئلے پيش كيے۔ ايك اصحاب كہف كے بارے ميں تھا۔ دوسرا مسئلہ روح كا تھا اور تيسرا ذوالقرنين كے بارے ميں ۔ذوالقرنين كى داستان ايسى ہے كہ جس پر طويل عرصے سے فلاسفہ اور محققين غور و خوض كرتے چلے آئے ہيں اور ذوالقرنين كى معرفت كے لئے انہوں نے بہت كوشش كى ہے۔

0132
قران واضح طورپر گواہى ديتا ہے كہ يہ دو وحشى خونخوار قبيلوں كے نام تھے ،وہ لوگ اپنے ارد گرد رھنے والوں پر بہت زيادتياں اور ظلم كرتے تھے ۔ عظيم مفسر علامہ طباطبائي نے الميزان ميں لكھا ہے كہ توريت كى سارى باتوں سے مجموعى طورپر معلوم ہوتا ہے كہ ماجوج يا ياجوج و ما جوج ايك يا كئي ايك بڑے بڑے قبيلے تھے ،يہ شمالى ايشيا كے دور دراز علاقے ميں رہتے تھے ،يہ جنگجو ،تگر اور ڈاكو قسم كے لوگ تھے۔

0133
قرآن ميں حضرت ذوالقرنين علیہ السلام كے ايك اور سفر كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے:
''اس كے بعد اس نے حاصل وسائل سے پھر استفادہ كيا''۔( سورہ كھف آيت92﴾