فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Wednesday, 13 November 2019

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

547535
قرآن مجید عیب جو حضرات کوبرے انجام سے ڈراتے ھوئے ان کی اس بری عادت کا نتیجہ بتاتا ھے ؛” ویل لکل ھمزة لمزة “ (۱ ) ھر طعنہ دینے والے چغلخور کے لئے ویل ھے ۔
اسلام نے معاشرہ کی وحدت کی حفاظت کے لئے زندگی کے اندر اصول ادب کی رعایت کو ضروری قرار دیا ھے اور عیب جوئی جو تفرقہ کا سبب اور دوستانہ روابط کے قطع کرنے کی علت ھے ، کو

547537
کچھ لوگوں میں ایک منحوس عادت یہ ھوتی ھے کہ وہ ھمیشہ دوسروں کی لغزشوں اور بھیدوں کی تلاش میں رھا کرتے ھیں تاکہ ان لوگوں پر نقد و تبصرہ کریں ان کا مذاق اڑائیں ان کی سر زنش کریں ، حالانکہ خود ان لوگوں کے اندر اتنے عیوب ھوتے ھیں اور اتنی کمیاں ھوتی ھیں جو کم و کیف کے اعتبار سے ان کے فضائل پر غالب ھوتی ھے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے عیوب سے غافل ھو کر دوسروں کے عیوب تلاش کرتے رھتے ھیں ۔ یاد رکھئے ! لوگوں کے عیوب کی تلاش ایسی منحوس صفت ھے جو انسان کی زندگی کو آلودہ کر دیتی ھے اور اس کی اخلاقی شخصیت کو گرا دیتی ھے ۔

547537
انسا ن کی ایک ایسی سب سے بڑی اخلاقی کمزوری جو ناقابل علاج ھے وہ اپنے سے بے خبری ھے ۔زیادہ تر گمراھی و تباھی اسی بے خبری و جھالت کی وجہ سے ھوتی ھے اس لئے کہ بھت سے صفات اور نا پسندیدہ ملکات اسی بے خبری کی بنا ء پر مسکن دل میں بیٹھ جاتے ھیں اور انسان کی بد بختی کی بنیاد کو مضبوط کر دیتے ھیں ۔ اور جب انسان اپنے سے بیخبری کی بناء پرخود