فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Wednesday, 19 February 2020

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

آپ کی خدمت میں کوثرعالم اسلام حضرت فاطمہ زھرا (س) کی شھادت کی مناسبت سے تعزیت عرض ھے اور یہ میری دعا ھے کہ خدا وند عالم، اھلبیت علیھم السلام کے دامن کو ھمارے ھاتہ سے چھوٹنے نہ دے ۔

مجھے اس بات کی خوشی ھے کہ خدا وند کریم نے مجھے آپ حضرات کی خدمت میں حاضر ھونے کی توفیق عطا فرمائی ۔ جس موضوع کا اعلان کیا گیا ھے اور مجھے اس پر گفتگو کرنے کے لئے کھا گیا ھے وہ ھے ”مسلمانوں کی کمزوری اور زوال کے اسباب “۔ یہ ایک وسیع موضوع ھے اور کسی خاص ملک سے مخصوص نھیں ھے ۔ البتہ ممکن ھے کہ اسی ضمن میں میں ھندوستان یا دنیا کے کسی اور گوشہ سے متعلق خاص طور سے کچھ باتیں عرض کروں کہ تاریخی اعتبار سے وھاں کے حالات کیا رھے ھیں ۔
میں اس بحث میں ایک مقدمہ اور سوال عرض کروں گا اور پھر وقت کو پیش نظررکھتے ھوئے اس سوال کے جواب میں چند اھم نکات اپنی توانائی کے مطابق عرض کرنے کی کوشش کروں گا ۔ اس موضوع پر کافی گفتگو کی جاسکتی ھے۔ البتہ میرے خیال میں ایک گھنٹہ کی اس مختصرسی نشست میں اس بحث کے ھر پھلو پر بات کرنا حدود امکان سے باھر ھے، البتہ بعض اھم نکات اشارتاً بیان کئے جا سکتے ھیں ۔ اگر آپ کو مفید محسوس ھوں تو آپ خود ان اھم نکات کو موضوع قرار دے کر مفصل تحقیق کر سکتے ھیں ۔ یقینا یہ بعض نکات جن کی طرف ابھی اشارہ کروں گا انتھائی اھم اور قابل توجہ ھیں۔
اھل مغرب جس زمانہ میں ظلمتوں اور جھل کی تاریکیوں میں بھٹک رھے تھے وہ قرون وسطیٰ کا دور تھا اور خود اھل مغرب قرون وسطیٰ کو جھالت ، تاریکی ، توحش کا زمانہ اور غیر مھذب دور کھتے ھیں۔ قرون وسطیٰ میں اھل مغرب کی دو خصوصیات خاص طور سے قابل ذکر ھیں: ایک علم دشمنی اور دوسرے تشدد پسندی۔ اس کا مطلب یہ ھے کہ قرون وسطیٰ میں تدین اور دینداری مذکورہ دو امور سے پیوستہ تھی ۔میں کوئی فیصلہ کن بات نھیں کھنا چاھتا کہ قرون وسطیٰ کا دور تاریکی کا دور تھا یا نھیں تھا، اس لئے کہ کچھ حضرات کا خیال ھے کہ قرون وسطیٰ کے بارے میں جو کچھ کھا جاتا ھے در حقیقت ایسا نھیںھے ۔ بھر حال بطور کلی نہ سھی بہ طور جزئی تو ماننا ھی پڑے گا کہ قرون وسطیٰ میں اخلاقی اقدار کا انحطاط تھا،ضعف و ناتوانی تھی، لوگ غیر مھذب اور وحشی تھے ۔
خدا وند کریم نے اس طرح کے دور میں جزیرہ نمائے حجاز میں ان غیر متمدن عربوں کے بیچ خورشید اسلام طلوع کیا جو خرافات میں گھرے ھوئے تھے اور جن کا اجتماعی اور سیاسی نظام قبائلی زندگی ھی تھی ۔ وھاں سے اسلام کی تھذیب ، تمدن اور علم پوری دنیا پر چھاگیا ۔ اسلام کے اتنے بڑے کارنامے کو کوئی کم نھیں کھہ سکتا ۔ اگر چہ ھم نے خود کچھ بھی نھیں کیا ، ٹھیک سے تبلیغ نھیں کی، اسلام کی صحیح تشریح نھیں کی پھر بھی اسلام کی کامیابی اور اسلامی تھذیب و تمدن کا پھلے جزیرہ نمائے عرب میں اور پھر دوسرے ممالک میں پھیل جانا انصافاً کسی معجزہ سے کم نھیں ھے ۔ مغربی اور مشرقی تاریخ نگا ر کھتے ھیں کہ طلوع اسلام کی پھلی چار صدیوں میں اسلام اس تیز رفتاری سے ترقی کر رھا تھا کہ قریب تھا پوری دنیاکو اپنے پرچم تلے جمع کر لے ۔پھلی چار صدیوں میں اسلامی تھذیب ، علوم ، ھنر ، تمدن اور اجتماعی اور بلدیاتی نظام ترقی پر تھا اور یہ ترقی دنیا کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکی اور یقینا اسلام نے بڑی کامیابی حاصل کی ، خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں واقعاً ایک عظیم کارنامہ انجا م پایا ۔ اپنے تیئس سالہ مکی دور میں سر کار دو عالم ایک ایک فرد پر کام کر رھے تھے اور اسے اسلام کی طرف لا رھے تھے ۔چونکہ وھاں اعلانیہ طور پر معاشرہ میں اسلام کو متعارف کرانے کا امکان نھیں تھا اس لئے آپ نے ھجرت اختیار کی ، ھجرت کا ایک سبب یہ بھی تھاکہ مکہ کے لوگ تبلیغ اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنتے تھے ۔ اب مدینہ کے تیرہ سالہ دور میں حضور نے کیا کیا ؟ عقل و منطق کے سھارے قبائلی اور محدود زندگی گزارنے والے عربوں کو متحد کر کے ایک نظام تشکیل دیا ، ایک قدرت ایجاد کی ، اور یہ اقتدار کے اعتبار سے اتنی بڑی طاقت تھی کہ حضور کی زندگی کے آخری سال میں آپ کے سامنے سے فرار کرنے والی روم کی بڑی شھنشاھیت تھی ۔آپ جنگ تبوک کو ملاحظہ کریں کوئی جنگ یا لڑائی ھوئی ھی نھیں، فقط ایک ریلی ھوئی ، روم کی بڑی شھنشاھیت پینسٹہ ھزار کا لشکر لے کر چلی ادھر پیغمبر اسلام مدینہ سے تیس ھزار افراد کے ساتھ چل پڑے ۔ جیسے ھی شھنشاہ روم کو اس کی خبر ھوئی کہ حضور تیس ھزار افراد کے ساتھ آرھے ھیں تو وہ اپنے پینسٹہ ھزار کے لشکر کے ساتھ تبوک سے بھاگ گیاچونکہ لڑائی کے لئے تیار ھی نھیں تھا،یہ ایک عظیم کار نامہ یا معجزہ تھا ۔
 تھذیبی اعتبار سے بھی مسلمان جھاں جھاں گئے تھذیب و تمدن بھی اپنے ھمراہ لے گئے۔ ایران کو ملاحظہ کیجئے، اھل ایران کا اسلام قبول کرنا کسی جنگ یا مسلمانوں کے ایران پر قبضہ کا نتیجہ نھیں تھا ۔ممکن ھے بعض طاغوتی سلاطین اسلام کے مقابلہ آئے ھوں لیکن عام لوگوں کے سامنے جوں ھی یہ مذھب پیش کیا گیا اور انھوں نے اسے اپنی فطرت سے ھم آھنگ پایا ( آپ مجھ سے بھتر جانتے ھیں اسلام فطرت ، عقل اور سماج سے ھم آھنگ دین ھے جو معاشرہ کی جملہ ضروریات پوری کر سکتا ھے ) تو اس کاپر جوش استقبال کیا ۔ حضور سر کار دو عالم کے بعد بھی ایسا ھی تھا ، طلوع اسلام کی اولین چار صدیوںکا زمانہ اسلامی تمدن، اسلامی ھنر، اخلاق اسلامی اور علوم اسلام کے عروج کا دور سمجھا جاتا ھے۔ لیکن ان چار صدیوں کے بعد مسلمانوں کی تنزلی کا آغاز ھو جاتا ھے ، تھذیب و تمدن اورعلم و ھنر کے میدان میں مسلمان دھیرے دھیرے پچھڑتے چلے جاتے ھیں، حکومت اور عالمی اقتدار کے اعتبار سے کمزور ھوتے چلے جاتے ھیں ، سوال یہ ھے کہ اس کا سبب کیا تھا ؟ یا اسباب کیا تھے ؟ آخر ھوا کیا اسلام جو پھلے چار قرن میں اس طرح سے ترقی کر رھا تھا کہ خود اھل مغرب نے بھی لکھا کہ اسلام کی یہ ترقی دنیا پر مسلمانوں کے قبضہ کی عکاسی کرتی تھی، جسے علم و تمدن کی تلاش ھوتی وہ مسلمانوں کی چوکھٹ پرپیشانی رکھتا تھا، اسلام کے خوان علم سے کسب فیض کرتا تھا ۔ اب کیا ھو گیا اس تنزلی کے اسباب کیا تھے ؟ کیا اسلام سے استفادہ کا وقت ختم ھو چکا تھا بعض دوسرے مکاتب فکر کی طرح ؟ میں خود سے کوئی موازنہ نھیں کرنا چاھتا ، البتہ کھتے ھیں کہ حضرت موسیٰ ایک زمانے تک بنی اسرائیل کو عروج پر لے گئے پھر ان کا تنزل شروع ھو گیا ۔ کیا اسلام کی کیفیت بھی یھی ھے ؟یا جیسے حضرت عیسیٰ (ع) نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے تھے لیکن آخر کار کچھ بھی نھیں رھا ۔کیا اسلام آوٹ آف ڈیٹ ( Out of date) ھو چکا تھا اس کے استعمال کا وقت ختم ھو چکا تھا یا کچھ اور اسباب تھے مسلمانوں کی تنزلی کے ؟ میرا اصلی سوال یہ ھے، اب دیکھتا ھوں کہ کتنی فرصت ملتی ھے جس میں اس کا جواب دے سکوں ۔ وہ کون سے اسباب تھے جنکے باعث چوتھی صدی کے بعد سے عالم اسلام میں دھیرے دھیرے اضمحلال و ناتوانی اور انحطاط و تنزلی عام طور سے دکھائی دینے لگی ۔
 ممکن ھے آئندہ پھر اسلام کا نام تمدن اور اقتدار کے ساتھ ساتھ لیا جانے لگے لیکن حالیہ صورتحال یہ ھے کہ دنیا کا ھر پانچواں آدمی مسلمان ھے، دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ھے ۔ آپ جانتے ھیں بعض مردم شماریوں میں مسلمانوں کی تعدا د ایک عرب تیس کڑوڑ ستر لاکہ تک بتائی جاتی ھے ، جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اھم ترین Strategic points مسلمانوں کے ھاتہ میں ھیں ۔ یعنی جن ممالک میں مسلمان سکونت پذیر ھیں وہ دنیا کے دوسرے علاقوں کی بنسبت نھایت حساس مانے جاتے ھیں ۔ قدرتی ذخائر اور منابع کے لحاظ سے اسلامی ممالک دنیا میں سب سے زیادہ قوی ھیں،لیکن تھذیب و تمدن اور اقتدار کے اعتبار سے مسلمان اغیار کے محتاج ھیں ۔ دنیا والوں کو ان کی باتیں سمجھ ھی میںنھیں آتیں ،خود مسلمانوں کا عمومی نقطہ نظر یہ ھے کہ مغرب سے علاحدہ ھو کر نہ کوئی تمدن قائم کیا جا سکتا ھے اور نہ ھی اقتدار تک رسائی ممکن ھے ۔ کبھی کبھی ایران کے اسلامی انقلاب کو بھی لوگ مشورہ دیتے ھیں کہ اگر زندہ رھنا چاھتے ھو تو اسلامی اقدار کو ترک کر کے مغرب سے ھاتہ ملا لو یا قرآن مجید کے الفاظ میں کھا جائے کہ ان کی غلامی قبول کر لو ۔ قرآن مجید نے یھود و نصاریٰ سے متعلق کیا خوب فرمایا ھے کہ ” لن ترضیٰ عنک الیھود ولا النصاریٰ“ کہ تم سے کسی چیز پر راضی نھیں ھوں گے اور اگر راضی ھوں گے بھی تو کس بات پر ” حتیٰ تتبع ملتھم “ اس سے کم پر یہ راضی ھی نھیں ھیں۔” یہ لوگ مختلف تھذیبوں کے ما بین گفتگو “کے معتقد نھیں ھیں، انھیں منطقی اعتبار سے کوئی صلح و صفائی نھیں کرنا ھے ۔ یہ صرف بادشاہ اور رعایا والا نظام چاھتے ھیں، ا ن کی کوسش فقط یہ ھے کہ آپ تسلیم کر لیں کہ یہ آپ کے آقا اور آپ ان کے غلام ھیں، یہ حکم فرما ھیں اور آپ مطیع و فرماں بردار ۔ بڑے افسوس کی بات ھے کہ بعض لوگ یہ سوچتے ھیں کہ استکباری طاقتوں سے مذاکرات کئے جا سکتے ھیں ، ان سے منطقی گفتگو کی جا سکتی ھے ۔ نھیں بلکہ ھمیں یہ دیکھنا ھو گا کہ مغربی تھذیبوں کے ما بین گفتگو کیوں کر انجام دی جائے ۔ اس بات پر کافی توجہ کی ضرورت ھے کہ تنزلی کے اسباب کیا تھے ؟ اس کے جواب سے قبل میں ایک بات کھنا چاھوں گا ۔ اسلام کی پھلی چار صدیاں کو ن سی تھیں؟ شیعوں کے لئے یہ نقطہ قابل افتخار ھے ۔ ائمہ معصومین (ع) اگر سیاست میں بھی ھوں تب بھی ھم امام معصوم (ع)کے وجود اوران سے ارتباط سے ھر گز محروم نھیں ھیں اور یہ رابطہ آج بھی بر قرار ھے ۔
دیکھئے یہ بڑا باریک نقطہ ھے جس کی طرف اھل مغرب قطعی متوجہ نہ ھو سکے، انھوں نے صرف اتنا کھا کہ طلوع اسلام کی پھلی چار صدیوں میں مسلمان ترقی کر رھے تھے، ان کا تمدن پھیلتا جا رھا تھااور اس کے بعد تنزلی کی طرف آنے لگے ،چوتھی صدی کے اواخر سے پچھڑنے لگے ، لیکن اھل مغرب یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسا کیوں تھا کہ پھلی چار صدیوں میں مسلمان علم و تمدن میں مستقل ترقی کر رھے تھے ۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟ یہ امام معصوم (ع)کی برکت تھی ۔ اب ایسا کیوں ھوا کہ امام معصوم(ع) اپنے فیوض و برکات کے ھمراہ پردہ غیبت میں چلے گئے، مرکز لطف الٰھی لوگوں کے سامنے نہ رھا۔یہ میری گفتگو کا موضوع نھیں ھے ، البتہ بھت ھی قابل توجہ امر ھے۔ میں آپ سے درخواست کروں گا کہ آپ اس موضوع پر بھی کام کریں ۔ بڑے افسوس کی بات ھے کہ امام معصوم(ع) غائب ھیں،کب ظھور فرمائیں گے ،اس سے متعلق بھت ساری تحریفات ھوئی ھیں ۔ عام تصور یہ ھے کہ امام تب ظھور فرمائیں گے جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی ۔ ھاں ! یہ بھی ایک شرط ھے اور ھماری روایات میں بھی یہ وارد ھوا ھے لیکن بنیادی شرط ایک دوسری شرط ھے ھمیں وہ شرط تلاش کرنی چاھئے اور وہ بنیادی شرط یہ ھے کہ ظلم و جور اتنا بڑہ جائے گا کہ انسان تھک ھار کر یہ سمجھے گا کہ مشرق یا مغرب سوشلزم یا لبرالزم کوئی کچھ بھی نھیں کر سکتا ۔ انسان خدائی حکومت کا پیاسا ھو جائے گا ۔ دعا کے لئے ھاتہ اٹھا کر کھے گا خدا یا غلطی ھوگئی ، مجھ میں اپنے اوپر حکومت کرنے کی طاقت نھیں ھے اب تو مجھ پر حکومت کر ! خدا کھے گا اب تمھاری سمجھ میں آیا ! ٹھیک ھے اب میرا خلیفہ ،نائب اور جانشین ظھو ر کرے گا ۔ امام معصوم (ع)نے غیبت اختیار کیوں کی تھی ؟ کیونکہ تم نے یہ نورانی چراغ ایک ایک کر کے بجھا دئے تھے۔
اب امام زمانہ (ع) آپ کے پاس آنے والے ھیں تو آپ اپنے اندر ان کی استقبال کی صلاحیت پیدا کیجئے۔ اپنے آپ کو تشنہٴ امام زمانہ (ع) بنائیے ۔ ایک مسلمان اور مومن ھونے کے ناطے آپ یہ کیجئے ! ظلم و جور پھیلانا دوسروں کا کام ھے ۔ بعض لوگ تو کھتے ھیں کہ کوئی بھی اسلامی عمل امام عصر (ع) کی تحریک کی شروعات میں رکاوٹ بنتا ھے ۔ ھرگز ایسا نھیں ھے، دنیا میں تو فساد ھے ھی آپ اس کی فکر نہ کیجئے ۔ اس کے بعد کی فکر کیجئے ۔ ظلم و جور زیادہ ھو جائے آخر کیوں ؟ یعنی فساد اتنا بڑہ جائے کہ انسان تنگ آجائے، تھک ھار کے بیٹھ جائے ، یوسیڈزم کے معنی پتہ نھیں میں نے آپ کے سامنے عرض کئے ھیں یا نھیں ۔ اس کے عجیب و غریب معنی بیان کئے جاتے ھیں یعنی دنیائے غرب اس سال یہ کھہ رھی ھے کہ ھم اس جگہ پھونچ چکے ھیں جھاں سے نہ آگے جا سکتے ھیں اور نہ پیچھے آسکتے ھیں ، نہ قرون وسطیٰ ھمیں کھیں پھونچا سکا اور نہ ھی ماڈرنزم ، یعنی قرون وسطیٰ کے دور کے فساد کا ایک اور رخ تھا اور ماڈرنزم کے فساد کا ایک دوسرا رخ ھے ۔یھاں پر اگر ھم اور آپ صحیح معنی میں دنیا کواسلام سے متعارف کر اسکیں تو دنیا با آسانی یہ سمجھ جائے گی کہ اس کی رھائی کا راستہ فقط اسلام ھے ۔

Add comment


Security code
Refresh