www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

252069
تھران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ھو چکا ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا کے 80 مختلف ممالک سے نمائندے شریک ہیں۔ یہ کانفرنس ایسے حالات میں منعقد ھو رھی ہے جب فلسطین، مغربی ایشیا اور عالمی سطح پر نئی تبدیلیاں رونما ھو رھی ہیں۔ اس تناظر میں دنیا بھر خاص طور پر عالم اسلام سے ایک ھزار سے زائد ماھرین کا تھران میں جمع ھونا خاص اھمیت کا حامل ہے۔ یہ اجتماع درحقیقت ملت فلسطین، عالم اسلام اور بین الاقوامی نظام کیلئے اھم پیغام کا حامل ہے۔
فلسطینی معاشرہ 1993ء میں اوسلو معاھدے کے بعد دو حصوں میں تقسیم ھو گئی اور اب اس تقسیم بندی میں مزید شدت آ چکی ہے۔ فلسطین کی تنظیم آزادی یا پی ایل او (Palestine liberation organization)، جسے اوسلو معاھدے کے بعد فلسطین پر آمرانہ حکومت کے نام سے یاد کرنا چاھئے، نے غاصب اسرائیلی رژیم کے مقابلے میں مسلح جدوجھد کی راہ ترک کر کے سیاسی مذاکرات اور سازباز کا راستہ اختیار کر لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اسلامی مزاحمتی تنظیموں اور گروھوں کے خلاف اسرائیلی پولیس کی صورت اختیار کر گئی۔
دوسری طرف وہ فلسطینی جھادی گروہ ہیں جنھوں نے اپنی تشکیل کا مقصد آخری دم تک اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجھد بیان کر رکھا ہے۔ ان اسلامی مزاحمتی گروھوں کا مقصد مقبوضہ فلسطین کی اسرائیل کی غاصب صھیونی رژیم کے قبضے سے مکمل آزادی ھونی چاھئے لیکن وہ بھی اپنے موقف سے پیچھے ھٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ آج کی اھم ضرورت یہ ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی آزادی پر مبنی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نھیں ھٹنا چاھئے۔
شام اور عراق میں تکفیری دھشت گرد گروہ داعش کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث مسئلہ فلسطین اپنی اصلی حیثیت کھوتا ھوا نظر آنے لگا۔ اگرچہ اسلامی جمھوریہ ایران نے ھمیشہ کی طرح مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کے اصلی ترین مسئلے کے طور پر باقی رکھنے کی پوری کوشش کی اور ساتھ ساتھ عراق اور شام کے بھادر عوام اور حکومتوں کی بھی داعش کے خلاف جنگ میں مدد اور حمایت کرتا رھا لیکن دوسری طرف اسرائیل نے خطے میں جنم لینے والے تکفیری – وھابی فتنے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا ارادہ کر لیا۔ لھذا غاصب صھیونی رژیم نے یھودی آبادیوں کی تعمیر کو بڑھاتے ھوئے فلسطینی سرزمین غصب کرنے کا کام تیز کر دیا۔
دوسری طرف بیت المقدس اور مسجد اقصی پر بھی اسرائیل کی دست درازیوں کا سلسلہ بڑھ گیا اور مسجد اقصی مسمار کر کے اس کی جگہ یھودی عبادت گاہ کی تعمیر پر مبنی منحوس سازش کو بھی تیز کر دیا۔ اسی طرح اسرائیل کی غاصب صھیونی رژیم اپنا دفاعی بجٹ بڑھا کر اپنی فوج کو مزید مسلح کرنے کا کام شروع کر چکی ہے جس کا مقصد فلسطین اور خطے میں اسلامی مزاحمتی گروھوں کا خاتمہ ہے۔
عرب حکومتیں اب تک اپنی تاریخی جاھلیت کے حصار سے ھی باھر نھیں نکل پائی ہیں۔ عرب حکام امت مسلمہ کی اربوں ڈالر پر مشتمل دولت کو جو اسلامی دنیا کے اھم ترین مسئلے یعنی فلسطین کی آزادی پر خرچ ھونے چاھئیں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے اسلحہ خریدنے پر اڑا رھے ہیں اور وھی اسلحہ دیگر اسلامی ممالک جیسے بحرین، شام، عراق اور یمن میں مسلمانوں کے خلاف ھی استعمال کر رھے ہیں۔
اس طرح یہ حماقت عالم اسلام کیلئے بھت مھنگی پڑی ہے اور مسلمانوں کو بھت زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑ رھا ہے۔ شام، عراق اور یمن کا انفرااسٹرکچر اور انقلابی طاقت جو فلسطین کی آزادی کیلئے استعمال ھونا چاھئے تھی عرب حکام کی بے وقوفی کے باعث نابود ھو رھی ہے۔
عرب حکام نے عالمی استکبار امریکہ اور بین الاقوامی صھیونزم کی شہہ پر اسرائیل کو اپنا اصلی دشمن بنانے کی بجائے ایران کو اپنا دشمن تصور کر رکھا ہے اور ایران سے ضد میں آ کر آنکھیں بند کر کے اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کی دوڑ لگا رکھی ہے۔ وہ اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اسرائیل کی غاصب صھیونی رژیم امت مسلمہ کی حقیقی دشمن ہے۔ آج عرب حکام عالم اسلام میں قومی اور مذھبی فتنوں کی آگ شعلہ ور کرنے میں اسرائیل کے پٹھو اور آلہ کار بن چکے ہیں۔
ترکی کی حکومت جو ھمیشہ سے یورپی یونین کا حصہ بننے کا خواب دیکھتی آئی ہے اب ایک نیا خواب دیکھنا شروع ھو گئی ہے اور وہ سلطنت عثمانیہ کا احیاء ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے ترک حکام مکمل طور پر اسرائیل اور مغربی طاقتوں کے ھاتھوں میں کھیل رھے ہیں۔
ترکی نے شام میں تکفیری – وھابی ٹولے داعش کی بھرپور مدد اور حمایت کی ہے تاکہ اس طرح سلطنت عثمانیہ کے احیاء پر مبنی خواب میں حقیقت کا رنگ بھر سکے۔ ترک عوام اپنے حکمرانوں کے اس خطرناک کھیل کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں لیکن ترک حکام ذرہ بھر عبرت حاصل نھیں کرتے۔ اب ترک حکام نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امیدیں وابستہ کر چکے ہیں اور اس خام خیالی کا شکار ہیں کہ وہ انھیں شام میں مطلوبہ سیاسی مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ھوں گے۔
ایسے حالات میں تھران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں چھٹی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ھو رھا ہے۔ اس کانفرنس کا اھم ترین اور بنیادی ترین مقصد یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کو اسلامی دنیا کے اھم ترین مسئلے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
سب تھران آئے ہیں تاکہ یہ اعلان کریں کہ فلسطین عالم اسلام کے قلب کی حیثیت رکھتا ہے اور اگرچہ عالم اسلام کا تن تکفیری دھشت گردی کے فتنے سے چکناچور اور زخمی ھو چکا ہے اور عالمی امن خطرے میں پڑ چکا ہے لیکن ان دو مسائل کا حل بھی حقیقت میں مقبوضہ فلسطین کی آزادی میں ھی مضمر ہے۔
اسرائیل ایک ایسا سرطانی غدہ ہے جو اسلامی دنیا کے پیکر میں ایجاد کیا گیا ہے اور آج کی ھر بدامنی کی جڑ اسی سرطانی غدے سے جا ملتی ہے۔ لھذا جب تک مظلوم فلسطینی اپنے حقوق تک نھیں پھنچتے اور جب تک اسلامی دنیا کو درپیش اس عظیم مسئلے کو حل نھیں کیا جاتا، خطے اور دنیا کے دیگر مسائل حل نھیں ھو سکتے۔
آج دنیا میں پائی جانے والی ھر بدامنی کا منشا اسرائیل نامی غیرقانونی ریاست ہے جو عالمی استکباری قوتوں کی فوجی چھاونی کا کردار ادا کر رھی ہے اور اس کے خاتمے کا واحد راہ حل انتفاضہ فلسطین کی بھرپور حمایت ہے۔
آج فلسطین کے باایمان جوان انتھائی محدود وسائل کے ساتھ غاصب صھیونی رژیم کے خلاف اٹھ کھڑے ھوئے ہیں اور ان کا مقصد عالم اسلام کو کھوئی ھوئی عزت واپس دلانا ہے۔ اب امت مسلمہ کی باری ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے، عزت کا یا ذلت کا؟
تحریر: مھدی شکیبائی

Add comment


Security code
Refresh