فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Wednesday, 20 November 2019

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

 

مقدمہ

بچپنا اور نوجوانی انسان کی شخصیت اور اس کی فطری صلاحیتوں کے رشد ونمو کا دور ہوتا ہے جب کہ جوانی، بہار ، تروتازگی اور شادابی کا زمانہ ہوتا ہے۔

 تاریخ کے نامور افراد نے نوجوانی اور جوانی میں اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کیا تھا۔ قرآن جو ایک انسان ساز کتاب ہے ، بچپنے ، نوجوانی اور جوانی پر خاص توجہ دیتی ہے اس لیے اس نے زندگی کے ان حسین لمحات کے بارے میں کافی گفتگو کی ہے۔ اُن میں سے بعض منتخب آیات کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔

 

(۱) طلاطلم موجوں میں بچہ

 

"انِ اقذِ فِیہِ فِی التَّابُوتِ فَاقذِ فِیہِ فِی الیَمِّ ۔"(سورہ طہ /۹۳

بچے کو صندوق میں رکھ دو اور پھر صندوق کو دریا کے حوالے کردو۔

 

پیغام

 

ظالم اور ستمگر بچوں پر رحم نہیں کرتے اور انہیں بھی اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن اگر خدا کی مدد ساتھ ہو تو جناب موسیٰ علیہ السلام بچپنے میں ہی طلاطم موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔

 

(۲) تپتے صحرا میں کم سن فرزند

 

"رَبَّنَا اِنِّی اسکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیرِ ذِی زَرعٍ"(سورہ ابراہیم/ ۷۳

اے میرے پروردگار میں نے اپنی اولاد، بیوی کو اس بے گھیتی (خشک و تپتے صحرا) میں رہا کیا۔

 

پیغام:

 

جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ جناب ہاجرہ اور اپنے بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کے تپتے صحراءمیں چھوڑدیا ۔خداوند متعال نے ان کی کیا خوب میزبانی کی کہ جناب اسماعیل علیہ السلام کے قدم مبارک سے چشمہ جاری ہوگیا جو آج بھی عاشقوں کے لیے قبلہ گاہ ہے۔

 

(۳) شیر خوار بچے کا مقام نبوّت پر فائز ہونا

 

'قَالَ اِنِّی عَبدُ اللہِ اتٰانِی الکِتَابَ وَجَعَلَنِی"(سورہ مریم/ ۰۳

بچہ (جناب عیسیٰ علیہ السلام )نے آواز دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔

 

پیغام:

 

اگر خدا چاہے تو بچہ گہواہ میں گفتگو کرسکتا ہے۔نبوت میں سن وسال کی کوئی قید نہیں اسی طرح دوسری ذمہ داریوں میںبھی جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہّٰ علیہ و آلہ وسلم نے ۸۱سالہ نوجوان کو لشکر اسلام کا سپاہ سالار بنایا تھا۔

 

(۴) سختیاں اور نوجوان 

 

" قَالَ یٰا بُشرَیٰ ھٰذٰا غَلَا۔"(سورہ یوسف/ ۹۱

اور وہاں ایک قافلہ آیا جس کے پانی نکالنے والے نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا تو) آواز دی ارے واہ یہ تو بچہ ہے۔۔

 

پیغام:

 

جو نوجوان اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں سختیاں برداشت کرتا ہے اس کا مستقبل روشن ہوتا ہے جس طرح جناب یوسف علیہ السلام نے سختیاں برداشت کی، پہلے کنویں میں ڈال دیئے گئے پھر غلام بناکر بھیج دیئے گئے مگر ہرگز خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے۔

 

(۵) ایک نوجوان کے لیے آگ کا سرد ہونا

 

"قَالُوا حَرِّ قُوہُ وَانصُرُوا۔۔۔قُلنٰا یٰا نٰارُکُونِی بَردًا و سَلَامًا عَلٰی اِبراہِیمَ "۔(سورہ انبیاء/ ۸۶، ۹۶

ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداوند کی مدد کرو۔۔۔تو ہم نے حکم دیا کے اے آگ ابراہیم کےلئے سرد ہوجا اور سلامتی کا سامان بن جا۔

 

پیغام

 

نوجوانوں کی ایک خاصیت حق پرستی اور خرافات سے مقابلہ کرنا ہے جیسا کہ جناب ابراہیم علیہ السلام جوانی میں بت پرستی کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے۔

نوجوان پاک و پاکیزہ دل رکھنے اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے دوسروں کی نسبت جلد ظلم و ستم کے خلاف کھڑے ہوکر اس راہ میں سختیاں برداشت کرتے ہیں ۔ ایسے میں خدا کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے۔

 

(۶) مبارز اور شجاع جوان

 

" اِنَّھُم فِتیَة ئَ امَنُوا بِرَبِّھِم وَزِدنَھُم ہُدًی۔"(سورہ کھف/ ۳۱

یہ چند (مبارز) جوان (اصحاب کہف) تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اورہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا تھا۔

 

پیغام:

 

جوانوں کی ایک خاصیت، ظلم کا خاتمہ اور عدالت کا قیام ہے۔ ان کا خدا پر ایمان انہیں ظلم و ستم کے خلاف جہاد میں تقویت دیتا ہے۔

کیا ہم اصحاب کہف کی طرح باایمان،پاک و پاکیزہ اور شجاع جیسی صفات کے مالک بن سکتے ہیں تاکہ مورد لطف و کرم پروردگار قرار پائیں۔

 

(۷) مہربان جوان

 

"وَ اِن کُنَّا لَخٰاطِئِینَ۔ قَالَ لَا تَثرِیبَ عَلَیکُمُ الیَومَ"(سورہ یوسف/ ۱۹، ۲۹

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا)اور ہم سب خطا کار تھے ۔ یوسف نے کہا آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔

 

پیغام:

 

جناب یوسف علیہ السلام کے بھائی اُن سے نیکی اور اچھائی کا درس بھی لے سکتے تھے مگر ان کی جسارت نے انہیں جناب یوسفعلیہ السلام کے قتل پر آمادہ کردیا اسی غرض سے انہوں نے جناب یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈال دیا۔

آخر کار جب جناب یوسف علیہ السلام بادشاہ مصر بنے تو ان کے بھائی ان کے سامنے فریاد کرنے لگے اور اپنے کیے پر معافی مانگنے لگے۔ یہ جناب یوسف علیہ السلام کی فراخدلی تھی کہ آپ نے اُن سب کو معاف کردیا۔

 

(۸) صاحبِ کردار نوجوان

 

"قَالَ رَبِّ السِّجنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا تَدعُونَنِی"(سورہ یوسف/ ۳۳

یوسف نے کہا کہ پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ لوگ دعوت دے رہے ہیں۔

 

پیغام:

 

اگر ایک صاحب کردار نوجوان کے سامنے دو راہیں ہوں تو وہ کون سی راہ کا انتخاب کرے گا۔یقینا وہ صحیح اور درست راہ کا انتخاب کرے گا۔

 

(۹) نافرمانی اور جوان

 

"قَالَ سَاوِی اِلٰی جَبَلٍ یَّعصِمُنِی مِنَ المٰاء"(سورہ ھود/ ۳۴

(حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا) اُس نے کہا کہ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔

 

پیغام:

 

اگر کوئی جوان راہ ِانحراف اختیار کرتا ہے تو گویا اُس نے انبیاءکی نافرمانی کی ہے چاہے وہ جوان نبی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

جوان پاک و پاکیزہ دل کا مالک ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ناتجربہ کار جوان کو راہ ِصحیح سے منحرف کردے۔

 

(۱۰) بت شکن جوان

 

"فَجَعَلَھُم جُذَاذًا اِلاَّ کَبِیرًا لَھُم۔"(سورہ انبیاء/ ۸۵

پھر ابراھیم نے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو چور چور کردیا۔

 

پیغام:

 

جوانوں کی ایک خاص بات ان کا حق پرست ہوناہے جیسا کہ جناب ابراہیمعلیہ السلام نے اپنی جوانی میں بت پرستی سے مقابلہ کرکے حق پرستی کا بول بالا کردیا۔

Add comment


Security code
Refresh