
ایران کے صدر نے کھا ہے کہ جوھری معاھدے سے امریکی علیحدگی کے بعد یورپی یونین اپنے کیے گئے وعدوں سے متعلق کوئی موثر اقدام نہ کرسکی۔
اسلامی جمھوریہ ایران کے صدرحسن روحانی نے ایران کے دورے پر آئے ھوئے ھالینڈ کے وزیر خارجہ استف بلوک سے ھونے والی ملاقات میں ایران جوھری معاھدے کو خطے اور دنیا کے مفاد میں قرار دیا اور کھا کہ اس معاھدے سے امریکی علحیدگی علاقے اور دنیا کے علاوہ امریکہ کو بھی نقصان پھنچے گا۔
انھوں نے جوھری معاھدے کے تحفظ پر زور دیتے ھوئے کھا کہ ھم نے اس حوالے سے یورپی یونین سے مذاکرت کی راھوں کو بند نھیں کیا ہے۔
صدر مملکت نے ایران مخالف امریکہ کی غیر قانونی پابندیوں کا ذکرکرتے ھوئے کھا کہ امریکہ کی ظالمانہ پابندیاں، کھانے پینے کی اشیائےاور ادویات پر بھی مشتمل ہیں اور دنیا کی آزاد قوموں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک ھوکر ان ظالمانہ پابندیوں کی مذمت کریں۔
صدر روحانی نے علاقے میں بدامنی کی جڑ کو امریکی موجودگی قرار دیتے ھوئے کھا کہ اگر امریکہ مداخلت کرنے اور دھشتگردانہ کارروائیوں سے ھاتھ کھینچ لے تو مغربی ایشیاء میں امن قائم ھو جائیگا۔
انھوں نے کھا کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے ذریعے فراھم ھو سکتی ہے اور خلیج فارس میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی علاقے کی سلامتی کے لئے نقصان دہ ہے۔
اس موقع پر ھالینڈ کے وزیر خارجہ استف بلوک نے جوھری معاھدے کے تحفظ پر زور دیتے ھوئے کھا کہ ھم نے بارھا امریکی حکام سے کھا کہ جوھری معاھدے سے علیحدگی صحیح اقدام نھیں تھا۔
استف بلوک نے اس جانب اشارہ کرتے ھوئے کہ ان کا ملک جوھری معاھدے کے تحفظ کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نھیں کرے گا اس مھم کے حصول کیلئے باھمی مشاورت اور مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
جوھری معاھدے پر عمل میں یورپی یونین کی ناکامی پر حسن روحانی کی نکتہ چینی
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 222

