www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

805624
ھر فرعون کے لئے ایک موسیٰ ھوا کرتا ہے۔ 1979ء تک امریکہ مشرق وسطیٰ کا فرعون بنا رھا، اسے کوئی روک ٹوک نہ تھی، اپنی مرضی سے آنا، اپنی مرضی سے جانا۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً ایران کو وہ اپنی چھاونی سمجھتا تھا، جھاں کوئی اسے کوئی للکار نھیں سکتا تھا۔ خطے کے بڑے بڑے حکمران اس کے مقابل کھڑا ھونے کی جرات نھیں رکھتے تھے۔ شاہِ ایران خطے میں امریکی پولیس مین کا کردار ادا کر رھا تھا۔ سب کچھ امریکی مفادات کے حوالے سے اچھا چل رھا تھا کہ اچانک حالات نے پلٹا کھایا، 11 فروری 1979ء کا سورج انقلاب اسلامی کی نوید لیکر طلوع ھوا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پہ کاری ضرب پڑی۔ امام خمینی موسیٰ کے روپ میں فرعونِ زمان کے مقابل کھڑے ھوگئے۔ امریکی پولیس مین راہ فرار اختیار کرچکا تھا۔ امریکہ اور اس کے حواری سمجھ گئے کہ جب تک خمینی و فرزندانِ خمینی موجود ہیں، خطے میں ھماری کامیابی ممکن نھیں۔ اسلام دشمنان سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اس مشکل کا توڑ کیسے نکالا جائے۔
یھاں یاد دلاتا چلوں کہ موجودہ دور میں جس ملک و ملت پہ غلبہ کرنا مقصود ھو، اس پہ بجائے اس کے کہ جنگی جھازوں سے حملے کئے جائیں یا میزائل برسائے جائیں، اس کی اقتصاد پہ حملہ کیا جاتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اس ملک کی معیشت کو تباہ کرکے اسے جھکنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن انقلابِ اسلامی کا خطرہ امریکہ کے لئے اتنا بڑا تھا کہ اس نے دونوں طرف سے حملہ آور ھونے کا منصوبہ بنایا۔ ایک طرف جمھوری اسلامی کا اقتصادی پابندیوں سے گھیراو شروع کیا تو دوسری جانب صدام کے ذریعے ایران پہ حملہ آور ھوا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا آغاز 1980ء سے ھوا، جب ایک طرف 22 مئی 1980ء کو امریکہ نے ایران کا اقتصادی گھیراو شروع کیا، دوسری طرف اپنے ایجنٹ صدام کے ذریعے 22 ستمبر 1980ء کو ایران پر ایک ایسی جنگ مسلط کی، جس کے نہ صرف یہ کہ دونوں مسلمان ممالک بلکہ مشرق وسطیٰ بھی قطعی طور پر ایسی کسی جنگ کا متحمل نھیں تھا۔ دونوں طرف سے بے گناہ انسان مارے جانے لگے۔
امریکہ نے دونوں جانب سے اپنا کھیل جاری رکھا۔ صدام اور صدامیوں کو اسلحہ بھی پھنچاتا رھا جبکہ دوسرے محاذ پہ ایران کو سخت ترین پابندیوں میں جکڑنے کا عمل بھی جاری رکھا۔ ان پابندیوں میں مزید سختی 1995ء میں دیکھنے میں آئی، جب بل کلنٹن نے امریکی تیل و گیس کمپنیوں کو ایرانی تیل کمپنیوں کے ساتھ معاھدے کرنے سے روک دیا۔ سال 2001ء میں ان پابندیوں میں تسلسل کے ساتھ ساتھ ایک تبدیلی یہ آئی کہ پہلے صرف ایرانی سرکاری افراد اور کمپنیوں کا گھیراو کیا جاتا تھا، اب غیر سرکاری افراد اور ادارے بھی ان پابندیوں کی زد میں آنے لگے۔
اس تبدیلی کی ایک اھم وجہ یہ تھی کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام جو آٹھ سالہ زبردستی مسلط کی گئی جنگ کی وجہ سے کمزور پڑ چکا تھا، اس میں دوبارہ طاقت آچکی تھی اور اس پہ زور و شور سے کام جاری تھا۔ طاقت کے توازن میں تبدیلی دیکھتے ھوئے امریکہ نے بھی پینترا بدلا اور غیر سرکاری افراد و کمپنیاں بھی اب زیرِ عتاب آنے لگے امریکہ کی دیکھا دیکھی اور اس کی ھاں میں ھاں ملاتے ھوئے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی انقلابِ اسلامی کو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ھوئے ایران پہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، لیکن انقلاب کا جو بیج امام راحل نے بویا تھا، وہ اب ایک تن آور درخت بن چکا تھا۔
جمھوری اسلامی ایران نے رھبرِ حکیم کی سرپرستی میں اس شدید ترین اقتصادی محاصرے میں بھی ترقی کا عمل جاری و ساری رکھا۔ خود رھبرِ انقلاب، ان کے مشیران اور ایرانی وزیر خارجہ سمیت متعدد اھم افراد ان غیر قانونی و غیر انسانی پابندیوں کا شکار ھوئے، لیکن رھبرِ انقلاب نے ھمیشہ یھی فرمایا "محنت جاری رکھیں، یہ پابندیاں ھمارے لئے نعمت ثابت ھونگی۔"
اوباما دور میں مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر ایران کے ساتھ ایک معاھدہ تشکیل دیا گیا، جسے ٹرمپ نے آتے ھی منسوخ کیا اور یوں ٹرمپ دور میں جمھوری اسلامی پر پابندیوں کا شدید ترین دور شروع ھوا۔ 2018ء میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو دوائیں اور طبی آلات سپلائی کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ بقول رھبر معظم انقلاب بظاھر پینٹ کوٹ پھنے اور خوشبو و ٹائی لگائے بظاھر مھذب نظر آنے والے اندر سے کتنے غیر مھذب ہیں، جنھیں دوائوں کے نہ ھونے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی احساس نھیں۔
اس وقت جبکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کا قھر جاری ہے، تقریباً 18 لاکھ افراد اس سے متاثر ھوچکے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
جمھوری اسلامی ایران جو پہلے سے ان غیر قانونی و غیر انسانی پابندیوں کی زد میں تھا، کورونا کا شکار ھوا۔ 70 ھزار سے زیادہ افراد کورونا کا شکار ھوئے، جس میں سے چار ھزار سے زیادہ جان دے چکے ہیں، شدید ترین پابندیوں کے نرغے میں ھونے کے باوجود مریضوں کا علاج کامیابی سے جاری ہے۔ تقریباً 42 ھزار افراد اس وائرس سے صحتیاب ھوچکے ہیں۔ کورونا کے اوج کے دنوں میں بھی ایران میں غذائی اشیاء سمیت کسی چیز کی کمی محسوس نہیں کی گئی۔ عام دکانوں سے لیکر سپر مارکیٹس تک سب کچھ آسانی سے مل رھا تھا۔ یورپ، امریکہ و برطانیہ کا حال سب کے سامنے ہے۔ بڑی بڑی مارکیٹیں خالی ھوچکی ہیں۔ لوگوں کو غذائی اشیاء بھی نھیں مل رہیں۔
لیکن ان بدترین حالات میں بھی امریکی بدمعاشی جاری ہے، ھر چند ھفتوں بعد نئی پابندیاں لگ رھی ہیں، جبکہ پاکستان، روس، چین اور اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک و شخصیات امریکہ کی اس اقتصادی دھشتگردی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
بھرحال جمھوری اسلامی ایران اپنے رھبرِ عظیم الشان حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت و سرپرستی میں سربلند ہے۔ ان کا حکیمانہ قول حرف بہ حرف سچ ثابت ھو رھا ہے، پابندیاں نعمت بن چکی ہیں، جمھوری اسلامی تنِ تنھا کورونا وائرس کو شکست دینے کے انتھائی قریب پھنچ چکا ہے۔ بقول شاعر
۔۔۔۔۔وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
تحریر: محمد ثقلین واحدی

Add comment


Security code
Refresh