www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

608550
ایک طرف امریکا میں کورونا کا بحران روز بروز شدید سے شدید تر ھوتا جا رھا ہے تو دوسری طرف کورونا بحران کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ پر اندرون ملک تنقیدوں میں بھی شدت آ گئی ہے ۔
امریکا میں جاری کئے جانے والے نئے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد چھبیس ھزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
ورلڈ میٹر انفارمیشن سینٹر نے بتایا ہے کہ امریکا کی جون ھاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد منگل کی شام تک، چھے لاکھ تیرہ ھزار سے زائد اور مرنے والوں کی تعداد چھبیس ھزار سے تجاوز کر چکی تھی۔
منگل کی شام کو جاری کئے جانے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا تھا کہ امریکا میں کورونا سے مرنے والوں میں دو ھزار تین سو سے زائد افراد کا اضافہ ھو چکا تھا۔
امریکا میں کورونا کا پھیلاؤ اس حد تک بے قابو ھو چکا ہے کہ امریکی حکومت، ملک کی سبھی پچاس ریاستوں میں ایمرجنسی کے بعد میجر ڈیزاسٹر کا اعلان بھی کر چکی ہے ۔
اسی کے ساتھ کورونا کے تعلق سے ٹرمپ کی کارکردگی پر تنقیدیں بھی شدید تر ھو گئی ہیں۔
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں ٹرمپ کو پوری طرح ناتواں قرار دیا ہے۔ نینسی پلوسی نے کھا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص، یعنی ٹرمپ انتھائی کمزور اور ناتواں لیڈر ہیں، کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نھیں ہیں لیکن اپنی تمام تر کمزوریوں کے ساتھ ، دوسروں کی ملامت کرنے میں ذرہ برابر ھچکچاھٹ محسوس نھیں کرتے۔
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا ہے کہ ملک کا جو بنیادی ڈھانچہ ٹرمپ کے حوالے کیا گیا تھا، انھوں نے اس کو بھی نابود کردیا ہے۔ نینسی پلوسی کا کھنا ہے کہ جس انفرا اسٹرکچر سے، کورونا پر قابو پانے کے لئے کام لینا چاھئے تھا، ٹرمپ نے اس کو ختم کر دیا جس کا نتیجہ غیر ضروری وحشتناک اموات اور معیشت کی تباھی کی شکل میں ظاھر ھوا ہے۔
امریکی سینیٹ میں اقلیتی ڈیموکریٹ دھڑے کے لیڈر چک شومر نے بھی اپنے ملک کے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ دشمنوں کے خلاف روزانہ کے سیاسی دعووں کے بجائے، کورونا کے پھیلاؤ کا بحران روکنے کی فکر کریں۔
ھل نیوز کے مطابق چک شومر نے امریکا میں کورونا سے نمٹنے کے حوالے سے ٹرمپ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ھوئے کھا کہ ٹرمپ بجائے اس کے کہ، کورونا ٹسٹ اور اس کی ویکسین اور دواؤں کی تیاری میں ضروری اقدامات انجام دیتے، اپنی ساری توجہ مبینہ دشمنوں پر مرکوز کر رکھی ہے۔
سینیٹر چک شومر نے کھا کہ ذیلی اور غیر اھم مسائل پر غیر ضروری توجہ دی جائے گی تو کورونا کے مقابلے کے لئے حالات کیسے سازگار بن سکتے ہیں؟
انھوں نے صحت کی عالمی تنظیم ڈبلو اچ او کی مالی امداد روک دینے کے ٹرمپ حکومت کے اقدام پر بھی سخت تنقید کی ہے۔
دوسری طرف امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اپنے کارکنوں کے لئے ھدایت جاری کی ہے کہ کورونا کے علاج کے لئے صدر ٹرمپ کی مجوزہ دوا استعمال کرنے سے پرھیز کریں۔
امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ سی آئی اے نے اپنے کارکنوں کے لئے جو ھدایت نامہ جاری کیا ہے اس میں کھا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کورونا کے علاج کے لئے، ملیریا کی جو دوا، ھائیڈروکسی کلورو کوئن تجویز کی ہے، اس کے انتھائی خطرناک اثرات مرتب ھو سکتے ہیں جس میں دوا استعمال کرنے والے کی موت بھی شامل ہے۔
یاد رھے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے مارچ کے مھینے میں، اپنے ٹوئٹر پیج پر کسی بھی ثبوت کا ذکر کئے بغیر دعوی کیا تھا کہ ملیریا کی دوا ھائیڈروکسی کلورو کوئن سے کورونا کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

Add comment


Security code
Refresh