www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

574e7
ھندوستان کے کسان رہنما راکیش ٹکیت نے یوم جمھوریہ پر لال قلعہ میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے اور مذہبی جھنڈا لہرانے کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
راکیش ٹکیت نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ انھوں نے لال قلعہ میں کچھ لوگوں کے داخل ہونے اور وہاں جھنڈا لہرانے والوں کی شناخت اور ان کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یوم جمھوریہ پر یہ حرکت کی ہے، ان کے بارے میں یہ بھی پتہ لگانے کی ضرورت ہے کہ ان کا کن سیاسی پارٹیوں سے تعلق ہے۔
کسان رہنما نے کہا کہ مشترکہ کسان مورچہ نے کسانوں سے لال قلعہ پہنچنے اور اس میں داخل ہونے کی اپیل نہیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران بعض مقررہ راستوں کو محاصرے میں لے لیا گیا تھا جس کی جانچ ہونا ضروری ہے۔
راکیش ٹکیت نے کہا کہ جس نے بھی پولیس اہلکاروں پر ٹریکٹر چڑھانے کی کوشش کی اس کی شناخت اور اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
ساتھ ہی انھوں نے ٹریکٹر پریڈ میں شامل کسانوں پر لاٹھی چارج اور ٹریکٹروں کو نقصان پہنچانے کی بھی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ جن ٹریکٹروں کو پولیس نے نقصان پہنچایا ہے اس کا تاوان ادا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ منگل کو ھندوستان کے یوم جمھوریہ کے موقع پر کسانوں کی ٹریکٹر پریڈ کے دوران بہت سے لوگ اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ لال قلعہ میں داخل ہوگئے تھے۔ اس موقع پر کسی نے لال قلعہ میں اپنا ایک مذہبی پرچم لہرا دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک اور دہلی کی سرحدوں پر ان کے دھرنے ترسٹھ دن سے جاری ہیں۔ کسان تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ تینوں قوانین ان کے خلاف اور کارپوریٹ طبقے کے مفاد میں ہیں، اس لئے جب تک یہ تینوں قوانین واپس نہیں لئے جاتے اس وقت تک ان کے دھرنے اور تحریک کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مرکزی حکومت نے تینوں نئے زرعی قوانین میں اصلاحات کے لئے آمادگی کا اعلان کیا ہے لیکن ان کی منسوخی کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

Add comment


Security code
Refresh