www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

017353
شام اور لبنان کی سرحد کے نزدیک حزب اللہ کے 4 فیلڈ کمانڈروں کی گاڑی پر ڈرون طیارے سے راکٹ حملہ کر کے اسرائیل نے انھيں قتل کرنے کی کوشش کی جو ناکام رھی.
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اس وقت جب کورونا وائرس کی روک تھام میں جُٹا ھوا ہے، تب بھی اس کی توجہ اپنے سب سے بڑے خطرے یعنی حزب اللہ کی طرف سے ھٹی نھیں ہے۔
حزب اللہ کے کمانڈروں کو شھید کرنے کی اسرائیل کی یہ کوشش ناکام رھی، اس لئے نھیں کہ چاروں کمانڈر جن کی گاڑی کو ڈرون طیارے نے نشانہ بنایا بہت محتاط تھے بلکہ اس لئے بھی کہ حالیہ وقت میں اسرائیل کے ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے بارھا ناکام ھوتے رھے ہیں۔
حزب اللہ کبھی بھی اس طرح کے حملوں کے بعد یہ اطلاع نھیں دیتا کہ اسرائیل کے نشانے پر کون سے کمانڈر تھے اور ان کی رینک اور ان کا مشن کیا تھا؟
لیکن پھر بھی حکومت لبنان نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف شکایت کی ہے کیونکہ یہ حملہ لبنان کی سرحد کے اندر ھوا ہے۔
اسرائیل اس وقت داخلی طور پر شدید بحران میں پھنسا ھوا ہے کیونکہ کورونا وائرس وسیع پیمانے پر پھیل گیا ہے اور سیاسی بحران اپنی جگہ باقی ہے۔ حالات یہ ہیں کہ تین بار انتخابات ھونے کے بعد بھی حکومت نھیں بن سکی اور احتمال یہ ہے کہ چوتھی بار بھی انتخابات کرانے پڑ سکتے ہیں۔
در ایں اثنا اسرائیل کو شدید تشویش اپنی شمالی اور شمال مشرقی محاذ کے تعلق سے ہے جھاں لبنان اور شام واقع ہیں۔ اسرائیل نے شام میں حزب اللہ اور ایرانی فورسز کو کمزور کرنے اور انھیں وھاں مضبوط ٹھکانے بنانے سے روکنے کے لئے بارھا ھوائی حملے کئے ہیں، جن کی تعداد ۳۰۰ سے زائد بتائی جاتی ہے، لیکن اس کے حملوں کا برعکس نتیجہ برآمد ھوا یعنی شام کے اندر اسرائیل کے خلاف سرگرم ان فورسز کے ٹھکانے اور بھی مضبوط ھو گئے۔
جھاں تک حزب اللہ کے کمانڈروں کے خفیہ مشن کا سوال ہے، تو یہ بات باخبر حلقوں کے درمیان بحث میں ہے کہ جولان کی پھاڑیوں کے محاذ پر حزب اللہ کی گھری نظر ہے اور اسرائیل کو بھی اس خطرے کا احساس ہے کہ اگر یہ محاذ تازہ ھو گیا تو حالات کو قابو میں کر پانا اس کے لئے ناممکن ھو جائے گا۔
اسرائیل نے حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسرائیل کو یقین رکھنا چاھئے کہ حزب اللہ اسے بخشے گا نھیں اور انتقام یقینی ہے۔
البتہ اس وقت حزب اللہ کی ترجیح یہ ہے کہ ملک کے اندر نئی حکومت کی تشکیل کے عمل کو مضبوط بنایا جائے، اس کے بعد دوسرے کاموں کے لئے اچھا موقع ھوگا۔
حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے بھی اپنے ساتھیوں کو اسی روش کی ٹریننگ دی ہے۔
بشکریہ:رای الیوم

Add comment


Security code
Refresh