
امریکی حکومت نے گیارہ ستمبر دوھزار ایک کے حملوں میں ھلاک ھونے والوں کے لواحقین کو سعودی کردار سے متعلق خفیہ معلومات دینے سے انکار کردیا ہے۔
امریکی ذراائع بلاغ عامہ کے مطابق امریکا کے وزیر قانون ولیم بار اور امریکا کی نیشنل انٹیلیجنس سینٹر کے سربراہ ریچرڈ گرینیل نے اعلان کیا ہے کہ قومی سلامتی کے پیش نظر گیارہ ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں خفیہ اطلاعات، حملے میں ھلاک ھونے والوں کے لواحقین کو نھیں دی جاسکتیں۔
اس رپورٹ کے مطابق ولیم بار اور ریچرڈ گرینیل نے ملک کی ایک عدالت میں بیان دیا ہےکہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں سعودی کردار کے سے متعلق خفیہ دستاویزات، خفیہ قومی دستاویزات کا حصہ ہیں۔ ان دونوں امریکی عھدیداروں کا دعوی ہے کہ ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ھوسکتا ہے اس لئے ان کو خفیہ رکھنا ضروری ہے۔
یاد رھے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں میں ھلاک ھونے والوں کے لواحقین نے حملوں میں سعودی شھریوں کے ملوث ھونے کے پیش نظر عدالت میں سعودی حکومت کے خلاف تاوان کا دعوی کررکھا ہے۔ لیکن چونکہ امریکی حکومت نے سعودی کردار سے متعلق دستاویز کو خفیہ قرار دے کر مھلوکین کے لواحقین کو دینے سے انکار کردیا ہے، اس لئے اب اس مقدمے میں ان کی جیت کے امکان بھت کم ھوگیا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے چند ماہ قبل اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا تھا کہ امریکی حکومت کوشش کررھی ہے کہ گیارہ ستمبر دو ھزار ایک کے حملوں میں سعودی کردار سے متعلق دستاویزات منظر عام پر نہ آنے پائیں۔
یاد رھے کہ امریکا میں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث انیس ھائی جیکروں میں سے سولہ سعودی اور دو متحدہ عرب امارات کے شھری تھے لیکن امریکی حکومتوں نے ریاض کے ساتھ اپنے وسیع اقتصادی روابط اور اربوں ڈالر کے فوجی نیزاسلحہ جاتی سمجھوتوں کے پیش نظر ان حملوں میں سعودی کردار سے متعلق دستاویزات کو خفیہ رکھا ہے۔
نائن الیون کا واقعہ، خفیہ رپورٹ سرد خانے میں، امریکا اور سعودی عرب کی دوستی حقائق پر بھاری
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 255

