www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

405684
عراق کی سیاسی جماعتوں نے موجودہ سیاسی بحران سے نمٹنے میں نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی حمایت کا متفقہ طور پر اعلان کیا ہے۔
عراق میں عدنان الزرفی کے، حکومت بنانے سے منصرف ھونے کے بعد ، صدر برھم صالح نے ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کے نامزد کردہ متفقہ کنڈیڈیٹ مصطفی الکاظمی کو وزیر اعظم نامزد کرنے کے بعد حکومت بنانے کی دعوت دی۔
مصطفی کاظمی نے حکومت بنانے کی ذمہ داری ملنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ سبھی سیاسی جماعتوں کے رھنماؤں سے مشورے کے بعد قومی وفاق کی ایسی کابینہ تشکیل دیں گے جو موجودہ مسائل کے حل کی توانائی رکھنے کے ساتھ ھی عوام کے لئے قابل قبول بھی ھوگی۔ اس سلسلے میں انھوں نے ملک کے سرکردہ سیاستدانوں اور مختلف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے رھنماؤں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے ۔
اس سلسلے میں نئی مثبت پیشرفت یہ سامنے آئی ہے کہ ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر متفقہ طور پر کابینہ کی تشکیل اور مسائل کے حل میں مصطفی الکاظمی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
عراق کے معروف سیاستدان اور رکن پارلیمنٹ محمد شیاع السودانی نے اعلان کیا ہے کہ ملک اس وقت مختلف بحرانوں اور مسائل سے دوچارہے جس سے نمٹنے کے لئے مخلص، اور صاف ستھری شھرت رکھنے والے ماھرین کی ٹیم کی ضرورت ہے ۔
انھوں نے کھا کہ اس ٹیم کے انتخاب اور موجودہ بحران اور مسائل سے ملک کے نکالنے میں نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے ساتھ مکمل ھم آھنگی اور ان کی حمایت ضروری ہے ۔
انھوں نے کھا کہ نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے پہلے محمد توفیق علاوی اور عدنان الزرفی کو حکومت بنانے کی دعوت دی جاچکی ہے لیکن یہ دونوں ھی حکومت بنانے میں ناکام رھے ہیں۔
محمد شیاع السودانی نے کھا کہ ان دونوں کی ناکامی کے علل و اسباب موجودہ نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے سامنے موجود ہیں، وہ ان سے فائدہ اٹھائیں گے تاکہ ایک مضبوط اور توانا حکومت بناسکیں۔ عراق کے الفتح پارلیمانی دھڑے کے سربراہ محمد الغبان نے بھی کھا ہے کہ ملک کے سبھی سیاسی گروھوں اور سیاستدانوں کے مشورے سے ایک مضبوط اور توانا کابینہ بننےجارھی ہے۔
انھوں نے کھا کابینہ کے اراکین کے انتخاب کا اختیار مصطفی الکاظمی کے پاس ہے لیکن وہ کوشش کررھے ہیں کہ اتفاق رائے سے کابینہ کے اراکین کا انتخاب کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ سے اس کو بغیر کسی رکاوٹ کے اعتماد کا ووٹ مل جائے۔
الفتح اتحاد کے سربراہ محمد الغبان نے ملک میں قبل از وقت انتخابات کے بارے میں کھا کہ مصطفی الکاظمی کے ساتھ اس بات پر اتفاق ھوا ہے کہ انتخابات میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ نہ لگے اور اس سے پہلے ایسے حالات فراھم کئے جائیں کہ انتخابات کی شفافیت یقینی ھوجائے۔
انھوں نے کھا کہ نئے نامزد وزیر اعظم کی حمایت پر ملک کی سبھی سیاسی جماعتیں اور اتحاد متفق ہیں ۔ انھوں نے کھا کہ البتہ ان کی حمایت جاری رھنے کی شرط یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی اور علاقائی روابط میں توازن برقرار رکھیں اور ملکوں سے روابط باھمی احترام کی بنیاد پر استوار ھوں اور کسی کی بھی طاقت کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عراقی سرزمین سے کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لئے کام لے۔
ادھر عراقی پارلیمنٹ کے سیکورٹی اور دفاعی امور کے کمیشن کے رکن علی الغانمی نے ایک ٹی وی پروگرام میں کھا ہے کہ ملک کی سیاسی قوتیں چاھتی ہیں کہ نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی عراق میں امریکی افواج کی موجودگی ختم کرانے کے تعلق سے ٹھوس اقدامات انجام دیں ۔
انھوں نے کھا کہ ملک کا نیا وزیر اعظم عراق سے امریکی افواج کے انخلا کی پارلیمنٹ کی قرار داد پرعمل درآمد کا پابند ہے۔ انھوں نے کھا کہ ابھی امریکی افواج عراق سے پوری نھیں باھر نھیں نکلی ہیں اور الکاظمی کو یہ اھم کام بھی انجام دینا ہے۔
قابل ذکر ہےکہ عراق کے نئے نامزد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے وعدہ کیا ہےکہ ، عراقی عوام کے لئے قابل قبول اور مضبوظ کابینہ کی تشکیل کے بعد ملک کے اقتدار اعلی کا استحکام ، بحرانوں اور مسائل کا خاتمہ اور اقتصادی ترقی ان کی ترجیحات میں شامل ھوں گی۔

Add comment


Security code
Refresh