فروشگاه اینترنتی هندیا بوتیک
آج: Wednesday, 18 February 2026

www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

431455
امریکا میں کورونا کے وحشتناک پھیلاؤ میں روز افزوں اضافے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی کے ساتھ امریکا کے میڈیکل اسٹاف نے ایک بار پھر کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کی سیفٹی اور کورونا کے مریضوں کے علاج کے وسائل کی شدید قلت کے خلاف ایک بار پھر احتجاجی مظاھرہ کیا ہے ۔
دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے کورونا کے حوالے سے اپنی حکومت کی مجرمانہ کوتاھیوں کی طرف سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ھٹانے کے لئے دوسروں پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
امریکا کی جان ھاپکنز یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں تقریبا پانچ ھزار افراد موت سے ھمکنار ھوگئے ۔ اس رپورٹ کے مطابق چوبیس گھنٹے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیس ھزار سے زائد اضافہ ھوا ہے۔
اس دوران ، نیویارک میں پھر طبی عملے کے افراد نے حفاظتی وسائل اور طبی آلات کی قلت کے خلاف ایک بار پھر احتجاجی مظاھرہ کیا ہے۔
مظاھرین نے اپنے ھاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر طبی عملے کے افراد کو کورونا سے بچاؤ کے وسائل فراھم کئے جانے کے مطالبات پر مشتمل نعرے درج تھے۔
اس رپورٹ کے مطابق مظاھرین کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈ اور بینر تھے ، ان پر لکھا ھوا تھا کہ ھمیں حفاظتی لباس پی پی ای اور دیگر حفاظتی وسائل کی ضرورت ہے۔ بعض پلے کارڈوں پر لکھا ھوا تھا، مسٹر ٹرمپ ھمارے مرجانے کے بعد کیااسپتالوں میں تم کام کروگے ؟ بعض پلے کارڈوں پر یہ بھی لکھا ھوا تھا کہ اگر ھم کورونا میں مبتلا ھوکے مرجائیں تو ھماری مھارت کیا معنی رکھتی ہے؟
قابل ذکر ہے کہ اس وقت امریکا کی مختلف ریاستوں بالخصوص نیویارک میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف کے حفاظتی وسائل، ماسکوں اور مخصوص لباس پی پی ای کی شدید قلت ہے جس کے خلاف طبی عملے نے بارھا احتجاجی مظاھرہ کیا ہے ۔ لیکن ٹرمپ حکومت نے طبی عملے سے کھا ہے کہ ماسکوں کو استعمال ھونے کے بعدانھیں دھوکے اور ڈس انفیکٹ کرکے، دوبارہ استعمال کیا جائے۔
امریکا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں کورونا سے متاثر ھونے والوں کی تعداد چھےلاکھ اٹھترھزار دوسو دس اور مرنے والوں کی تعداد چونتیس ھزار چھے سو سے تجاوز کرچکی ہے۔
اسی کے ساتھ امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے بھی اپنے چار ھزار سے زائد ملازمین کے کورونا میں مبتلا ھونے کی خبر دی ہے۔
رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ مزید تین سو سولہ ملازمین کے کورونا میں مبتلا ھونے کے بعد امریکی وزارت جنگ کے ان کارکنوں کی تعداد جو کورونا میں مبتلا ھوچکے ہیں، چار ھزار چھے سو پینسٹھ ھوچکی ہے۔
یہ ایسے عالم میں ہے امریکا کے دو ایٹمی بحری بیڑوں کو بھی ان میں موجود ھزاروں فوجیوں کے ساتھ قرنطینہ کردیا گیا ہے اور ان بیڑوں میں موجود فوجیوں کو امریکا واپسی کی اجازت نھیں دی گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کے بحران کے بے قابو ھوجانے میں اپنی کوتاھیوں کی طرف سے توجہ ھٹانے کے لئے دوسروں پر بے جا الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔
ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں اس سوال پر کہ امریکا میں کورونا سے متاثرین اور ھلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ کیوں ہے ؟ جواب دینے کے بجائے، کھا ہے کہ چین نے اپنے یھاں کورونا سے متاثرین اور اموات کے غلط اعداد و شمار بیان کئے ہیں ۔
امریکی صدر ٹرمپ کورونا کے بحران کو کنٹرول کرنے میں اپنی کوتاھیوں اور غلطیوں کی طرف سے توجہ ھٹانے کے لئے چین کے ساتھ ھی صحت کی عالمی تنظیم ڈبلو ایچ او کو بھی کورونا پھیلنے کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
ٹرمپ نے اسی کے ساتھ ڈبلو ایچ او کی فنڈنگ بھی روک دی پر جس پر عالمی سطح پر حتی امریکا کے قریبی ترین اتحادیوں یورپی ملکوں کے ساتھ ھی اندرون ملک بھی سخت ترین مخالفت اور تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔

Add comment


Security code
Refresh