
سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں پر تعینات، سعودی فوجی اتحاد کے آلہ کاروں نے آل سعود حکومت کی جانب سے تنخواہ نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق یمن کے مستعفی صدر عبد ربه منصور ھادی کے حامی سعودی آلہ کاروں نے ھفتہ کے روز سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کے علاقے ربوعہ میں 6 ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ انھوں آل سعود حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں واپس اپنے وطن بھیجا جائے۔
اس سے قبل نیز سعودی عرب کی نگرانی میں عسیر صوبے کی سرحدوں میں تعینات یمن کی مستعفی حکومت کی فورسز نے احتجاج کرتے ھوئے اپنے علاقوں میں واپس بھجوائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک امریکہ کی حمایت و مدد کے زیر سایہ مارچ دو ھزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رھے ہیں۔ اس عرصے میں سولہ ھزار سے زیادہ یمنی شھری شھید جبکہ دسیوں لاکھ زخمی اور بے گھر ھو چکے ہیں۔
اس درمیان یمن سے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آل سعود یمن میں کورونا وائرس کو پھیلانے کے لئے مشکوک اقدامات انجام دے رھی ہے مگر سعودی عرب اپنی تمام تر وحشیانہ جارحیت اور شیطنت کے باوجود یمن میں اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نھیں کر سکا-
سعودی عرب کے مسلسل حملوں اور محاصرے کے باعث غریب عرب ملک یمن کو دواؤں اورغذاؤں کی شدید قلت لاحق ھو گئی ہے۔
آل سعود یمن میں لڑنے والوں کو تنخواہ نھیں دے رھی
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 255

