www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکا کو دنیا کی برتر طاقت ثابت کرنے اور بین الاقوامی تعلقات میں امریکا کے لئے خصوصی حق اور

 مراعات کے قائل ھونے کے تعلق سے باراک اوباما کے اصرار کو غلط قرار دیا ہے۔
کرملین کے پریس دفتر کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر باراک اوباما کے اس بیان پر، جس میں انھوں نے روس کو ایک علاقائی طاقت قرار دیا، کھا کہ وہ اوباما کے اس بیان اور نظریے کو تسلیم نھیں کرتے کہ روس ایک علاقائی طاقت ہے۔ روسی صدر پوتن نے کھا کہ اگر آپ روس کو علاقائی طاقت کھتے ہیں تو یہ دیکھنا ھوگا کہ روس، کس علاقے میں واقع ہے۔
انھوں نے کھا کہ روس، مشرق سے چین اور جاپان اور مغرب کی سمت سے آلاسکا کے ذریعے امریکا کا پڑوسی ہے جبکہ شمال میں قطب شمال کے ذریعے کینیڈا کا ھمسایہ ہے اورمغرب کی جانب سے یورپی ملکوں کے پڑوس میں واقع ہے۔
روسی صدر نے کھا کہ اقتصادی حجم کے اعتبار سے روس، دنیا میں پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہے۔ ان کا کھنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں اقتصادی مسائل کے پیش نظر ممکن ہے کہ یہ حجم کچھ کم ھو گیا ھو لیکن روس کی اقتصادی ترقی کے لئے مستقبل بھت ھی روشن ہے۔
پوتن نے کھا کہ ان کا ملک، عوام میں پائی جانے والی قوت خرید کے اعتبار سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔
ولادیمیر پوتن نے روس کے کردار کے بارے میں اوباما کے بیان پر تنقید کرتے ھوئے کھا کہ کسی دوسرے ملک کو نیچا دکھانا اپنے آپ کو برتر دکھانے اور اپنے لئے خاص امتیاز کے قائل ھونے کی کوشش کی ایک دوسری شکل ہے اور اوباما کا یہ موقف غلط ہے۔
انھوں نے گروپ سات میں روس کے مقام کی جانب اشارہ کرتے ھوئے کھا کہ پروگرام کے مطابق دو ھزار چودہ میں روس کو گروپ آٹھ کے اجلاس کا میزبان ھونا تھا لیکن روس کو کبھی بھی آٹھ صنعتی ملکوں کے گروپ آٹھ کا باقاعدہ ممبر ھی تسلیم نھیں کیا گیا کیونکہ بھت سے مواقع پر اس گروپ کے سات دیگر ملکوں کے وزرائے خارجہ، روس کے بغیر ھی مذاکرات کر لیتے تھے۔
 

Add comment


Security code
Refresh