www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

سرکاری طور پر سعودی عرب میں 98 فیصد مسلمان ہیں، جس میں سے 15 فیصد اھل تشیع تیل کی دولت سے مالامال مشرقی علاقوں میں آباد 

ہیں، مگر اُن کے ساتھ پورے سعودی عرب میں امتیازی سلوک برتا جاتا ہے اور انھیں تیسرے درجے کا شھری تصور کیا جاتا ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں
اللہ سے کرے دُور تو تعلیم بھی فتنہ
اِملاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کیلئے اُٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ھی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
ھیومن رائٹس واچ 2009ء کی رپورٹ کے مطابق مذھب، تعلیم، انصاف اور باقی تمام شعبہ جات اور ملازمت میں ایک منظم انداز میں امتیاز برتا جاتا ہے۔ شیعیت دشمنی کی انتھا ہے کہ ملک بھر میں وھابی ازم کا پرچار کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں شیعہ اسلام کو یھودی سازش کا نتیجہ اور موت کا سزاوار قرار دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی شیعہ طالب علم وھابی ٹیچر کی اِس گستاخی کا جواب دے تو 5 سو سے 8 سو کوڑے اور 2 سے 4 سال قید کی سزا دی جاتی ہے۔
شیعہ مسلمانوں کے خلاف حکومتی سطح پر کتابیں شائع اور تقسیم کی جاتی ہیں۔ 10 محرم کو چھٹی تو کجا شیعہ طلباء اور ٹیچرز کو شرکت کی اجازت تک نھیں دی جاتی۔ سعودی عرب میں شیعہ افراد جج نھیں بن سکتے، ملٹری اکیڈمی میں داخلہ نھیں لے سکتے، حتٰی کہ پائلٹ نھیں بن سکتے بلکہ سکول پرنسپل تک نھیں بن سکتے۔
شیعہ دُشمنی کی انتھا یہ ہے کہ عدالتوں میں شیعہ افراد کی گواھی تک قبول نھیں۔ اِس طرح کے زھر آلود اُموی ماحول میں اگر کوئی مردِ مومن، حکومت مخالف ھو اور ساتھ شیعہ بھی ھو تو پھر اُسے جینے کا کوئی حق نھیں، جیسا کہ شیخ نمر نے اپنی تقریر میں سکیورٹی افسر کی بات کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کھا تھا "آپ شیعہ لوگوں کو جینے کا حق نھیں ہے، اگر ھمارا بس چلے تو ھم تمام شیعوں کا خاتمہ کر ڈالیں۔"
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کھنا ہے کہ سلطنت سعودی عرب کا ناقص نظامِ انصاف بڑے پیمانے پر سزائے موت دیئے جانے میں مدد فراھم کرتا ہے۔ ملزموں کو وکیلوں کی سھولت مھیا نھیں کی جاتی، لوگوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد سے حاصل کئے جانے والے اعترافی بیانات کی بنا پر موت کی سزادے دی جاتی ہے اور ججوں کو بھی صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں، جس کی بنا پر عدالتی فیصلوں میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ بھت سے واقعات میں موت کی سز بند کمروں میں غیر منصفانہ اور سرسری سماعتوں کے بعد سنا دی جاتی ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ وہ سعودی عرب جھاں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رھی ہیں، وھی ملک اقوام متحدہ کے انسانی حقوق پینل کا سربراہ ہے۔
شیخ نمر باقرالنمر وہ مرد مجاھد تھے جنھوں نے شیعہ قوم کے ساتھ ھونے والے اِسی ناروا اور امتیازی سلوک کے خلاف آوازِ احتجاج بلند کی اور ملک میں آئینی و اصلاحی اصلاحات کا پرزور مطالبہ کیا۔ جس کی پاداش میں اُنھیں 2جنوری کو شھید کر دیا گیا اور اُن کا جسد خاکی بھی ورثاء کے حوالے نہ کیا گیا۔
باقر النمر ملک کے مشرقی علاقوں اور بحرین میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ باقر النمر سعودی عرب کے مشرقی شیعہ اکثریتی صوبے قطیف کے شھر العوامیہ میں 1959ء میں پیدا ھوئے۔ اُن کے والد بزگوار علی بن ناصر النمر اپنے علاقے کے معروف عالم اور خطیب تھے۔
انقلاب ایران کے فوراً بعد ایرانی شھرتھران میں دس سال تک دینی تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصہ شام میں گزارا۔ واپسی پر آبائی شھر میں دینی تعلیم و تدریس میں مصروف ھوگئے۔ شھر میں مرکزی نماز جمعہ قائم کی اور خطیب مقرر ھوئے۔ آپ عراقی مجتھد آیت اللہ محمد شیرازی اور محمد تقی المدرسی سے مذھبی رھنمائی لیتے تھے۔ آپ نے جنت البقیع کی تعمیر نو کیلئے سیاسی جدوجھد کا آغاز کیا اور ھر سال آٹھ شوال کو مظاھروں اور مجالس کا اھتمام بھی کرتے تھے۔
سعودی حکمرانوں کو مذھبی بنیادوں پر روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو ترک کرنے اور شیعہ عوام کو اُن کے جمھوری اور مذھبی حقوق دیئے جانے پر زور دیتے رھے۔2007ء میں مظاھروں پر پابندی لگا دی گئی، اگلے سال اُن کی زبان بندی کر دی گئی۔ وہ مسلح جدوجھد کے خلاف تھے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور گولی کی طاقت سے زیادہ الفاظ اور احتجاج کی طاقت پر یقین رکھتے تھے۔
2003ء سے لیکر 2008ء تک اُنھیں پانچ بار گرفتار کیا گیا اور مھینوں جیل میں رکھا گیا۔ اُنھیں نماز جمعہ پڑھانے سے منع کیا گیا، نہ رُکنے پر اُس مسجد کو مسمار کر دیا گیا، آپ اُسی مسمار شدہ مسجد کی جگہ پر نماز پڑھاتے رھے۔
اُن کی گرفتاری سے قبل اُن کے بھتیجے علی محمد باقرکو 15سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا۔ اُن پر بغاوت، شاہ کی نافرمانی، فسادات کرانا، سکیورٹی اھلکاروں پر پٹرول بم پھینکنا اور ڈکیتی جیسے الزامات لگا کر پھانسی سنا دی گئی، جس پر عالمی اداروں نے آواز حق بلند کی ھوئی ہے، کیونکہ بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن پر سعودی حکومت نے دستخط کر رکھے ہیں، جس میں 18سال سے کم عمر بچوں پر مقدمہ نھیں چلایا جاسکتا۔
شیخ باقرالنمر کو آخری بار فائرنگ کرکے شدید زخمی حالت میں 8 جولائی 2012ء میں گرفتار کیا گیا اور اُن پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ 45 دن تک بھوک ھڑتال کرنے، مظاھروں اور عالمی سطح پر شدید ردعمل کے باوجود اُن کو رھا نہ کیا گیا۔ اِسی دوران شیخ نمر کی زوجہ انتقال کرگئیں، لیکن پے رول پر رھا نہ کیا گیا۔
2014ء میں نمائشی اور ربڑ سٹمپ عدالت نے مجاھد عالم دین اور آمریت مخالف رھنما کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا سنا دی گئی۔ اُن کے خلاف مقدمہ کی تمام تر سماعت کو خفیہ رکھا گیا اور میڈیا کو شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ دنیا بھر کی 17 مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے سعودی بادشاہ سے رحم کی اپیل کی اور پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا، لیکن سعودی حکام نے تمام انسانی اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ھوئے اِس عالم ربانی کو شھید کر دیا۔
آیت اللہ باقر نمر سعودی شخصیت نھیں تھے بلکہ وہ ایک عظیم عالمی شخصیت تھے، جنھیں صرف تنقید کے جرم میں ذبح کیا گیا۔ ان کی بے جرم و بے خطا گردن زنی کرکے ایک اور غیر انسانی، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
اِس باخبر اور تیز گلوبل ویلج میں سعودی عرب چاھے کہ اُس کے مذموم اور منحوس کام کی کسی کو خبر نہ ھو اور کوئی مذمت تک نہ کرے تو یہ ممکن نھیں ہے۔ شیخ نمر کی شھادت پر ایران اور دُنیا بھر میں پایا جانے والا ردِعمل فطری، انسانی اور اخوت و بھائی چارے کا مظھر ہے۔ اِسی بات کی تائید میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
اُخوت اِس کو کھتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ھندوستان کا ھر پیروجواں بیتاب ھوجائے
سعودی عرب عالمِ اسلام کا نمائندہ ملک کیسے ھوسکتا ہے، جو سب سے بڑی بلڈنگ بنا کر دنیا کا پھلا ملک بننا تو پسند کرتا ہے، لیکن خواتین کو چندماہ پھلے صرف بلدیاتی الیکشن میں ووٹ کا حق دے کر دُنیا کا آخری ملک بن جانے میں شرم و عار محسوس نھیں کرتا۔
انصاف اور عدل کی حکمرانی کا شور کرنے والا ملک رائف بداوی کو سعودی حکومت کے خلاف لکھنے پر دس سال قید، ایک ھزار کوڑے اور پونے دو لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کی سزا تو دے دیتا ہے، لیکن سعودی کفیل اگر بھارتی ملازمہ کستوری منی کا ھاتھ ھی نھیں بلکہ پورا بازو کاٹ دے تو عدالت عظمٰی کی زبان گنگ ھوجاتی ہے۔
تین صدیاں حکمرانی کرنے کے دعویدار سعودی حکمران سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے اور جیل کے حالات پر تنقید کرنے والے اصلاح پسند مصنف زھیر کتبی کو چار سال قید، پندرہ سال لکھنے اور پانچ سال تک بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی اور 26،600 ڈالر جرمانہ کی سزا تو دے دیتے ہیں، لیکن بھارتی دارالحکومت دھلی سے ملحق شھر گڑ گاؤں میں سعودی سفارت کار کی جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی دو نیپالی خواتین کی انصاف طلب چیخوں کی گونج کو بھارت میں ھی دیا جاتا ہے۔
خادم حرمین شریفین کی ڈفلی بجانے والے حکمران شاعر اور آرٹسٹ اشرف فیاض کا توھین مذھب کے الزام میں سر تو قلم کر دیتے ہیں لیکن اگر امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سعودی شھزادہ مجید عبدالعزیز السعود تین ملازم خواتین پر جنسی تشدد کرے تو تین لاکھ ڈالر کے بانڈ کے عوض حکومتی سطح پر معاملہ رفع دفع کرا دیا جاتا ہے۔
ایک مقتدر عالمی شخصیت کو قتل کرنے کے ردِعمل میں اگر ایک عمارت کو جزوی طور پر جلا دیا جاتا ہے تو چور مچائے شور کا مصداق سعودی عرب اِس پر واویلا و شور مچا دیتا ہے اور عالمی لیول پر اپنی حمایت میں اِیران سے سفارتی تعلقات منقطع کرا دیئے جاتے ہیں۔
کیا سعودی حکمران بتا سکتے ہیں کہ پری پلان سانحہ منٰی میں شھید ھونے والے ھزاروں حاجیوں پر اُس نے کتنے ملکوں اور شھید حجاج کے خاندانوں سے افسوس کا اظھار اور معذرت کی، بلکہ جھوٹ کی انتھا کرتے ھوئے دنیا بھر کے میڈیا کو غلط اعداد و شمار بتائے گئے۔ سوائے ایران اور سابق پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بھانجے کے، درجنوں ملکوں کو لاشے تک واپس نھیں کئے گئے۔ یھی وہ سنگدل حکمران تھے جنھوں نے 1987ء میں سینکڑوں حجاج کو مکہ کی سڑکوں پر بزرگ شیطان امریکہ کے خلاف مرگ بر امریکہ کی رمی کرنے کی پاداش میں گولیوں سے بھون ڈالا تھا اور خانہ کعبہ پر قبضے کا مکروہ الزام لگا دیا تھا۔
اب پروپیگنڈہ اور الزام یہ ہے کہ ایران اُن کے ملکی معاملات میں مداخلت کر رھا ہے۔ کیا سعودی حکمران بتا سکتے ہیں کہ ایک آزاد اور خود مختار عرب ملک یمن میں سعودی عرب اور اُس کے عرب افریقی اتحادی کیا کھیل کھیل کر رھے ہیں؟
دشمن کی دیوار گرے، چاھے اپنے اوپر ھی کیوں نہ گرے، کی عملی مثال سعودیہ پر صادق آتی ہے۔ پچھلے سال جس کا بجٹ خسارہ صرف 8 ارب ڈالر تھا، اِس سال وہ 2 کھرب 98 ارب ڈالر کے خسارہ بجٹ کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔
بصیرت سے عاری اور بصارت کے اندھے حکمران شیعہ اور ایران دشمنی میں غیر انسانی، غیر اسلامی اور غیر اخلاقی ھتھکنڈے اپنا کر قومی سرمایہ ضائع پہ ضائع کر رھے ہیں۔
پاکستان کے ٹوٹل زرمبادلہ کے ذخائر صرف 21 ارب ڈالر ہیں اور سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صرف اندرونی بغاوت کو کچلنے اور کرسیٔ اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے 25 ارب ڈالر اپنی عوام کا منہ بند کرنے پر خرچ کر دیئے۔
اسی طرح ایران اور روس کی مضبوط معیشت کو نقصان پھنچانے اور سیاسی مفاد حاصل کرنے کے چکر میں تیل کی قیمت گرا دی گئی، چاھے سعودی عوام کیلئے تیل 50 فیصد مھنگا ھی کیوں نہ کرنا پڑے۔
حوثی زیدی عسکریت پسند جو اھل سنت مسلک سے زیادہ قریب ہیں، اُن سے جنگ اِس لئے واجب کر دی گئی کہ ایک تو وہ بیدار ھوچکے ہیں، دوسرا اُن کی اخلاقی اور سیاسی حمایت ایران کرتا ہے۔
مظلوم فلسطینی بھائیوں کو پسِ پشت ڈال کر اسرائیل سے دوستی اُستوار کی گئی، کیونکہ فلسطین کا سب سے بڑا حمایتی اور امدادی ملک ایران ہے، جو عالمی سطح پر یوم القدس کا پرچار کرتا ہے اور اسرائیل کا دشمن ہے۔ سیاسی اور مذھبی مفادات کی خاطر مذھب و مسلک کی آڑ میں گھناؤنا کھیل رچایا جا رھا ہے۔
خادم حرمین شریفین کا لبادہ اوڑھ کر عالم اسلام کو دھوکہ دیا جا رھا ہے۔ وہ کیسے حرم مکہ کے خادم ھوسکتے ہیں جن کے فوجی حج اسود پر فوجی بوٹ رکھے تصویر بنوا رھے ھوں۔ وہ کیسے عاشقان رسول ھوسکتے ہیں جو روضہ رسول کو چومنا تو درکنار روضہ رسول کی جانب رُخ کرکے دُعا مانگنے پر عاشقانِ رسول سے پاسپورٹ تک چھین لیتے ہیں۔
خدا جانے کہ یہ کھیل کب تک کھیلا جائے گا اور عوام کب تک دھوکہ کھاتی رھے گی۔؟ کھیں ایسا تو نھیں کہ سعودی وھابی حکمران اب سلطنت بچانے کی ناکام کوششیں کر رھے ھوں، کیونکہ سعودی عرب تین اطراف سے ایرانی اتحادی حکومتوں اور ملیشاؤں کے نرغے میں گھر چکا ہے اور وھابی مفادات و نظریات کو تمام دُنیا نے پھچان لیا ہے، کیونکہ دُنیا بھر کے تمام دھشت گرد گروہ نہ صرف وھابی نجدی نظریات کے حامل ہیں بلکہ اِنھیں کے پروردہ ہیں۔
اب 7 ھزار شھزادوں کی شاھی اُمیدوں اور 30 ھزار شاھی افراد کے شاھی چونچلوں کو تحفظ بخشنے کیلئے اِس طرح کے غیر اسلامی اور غیر انسانی اقدامات کرنے کے علاوہ اُس کے پاس کوئی اور راستہ اور چارہءِ کار نھیں بچا، کیونکہ اندرونی و بیرونی دباؤ شاھی دروازوں پر انقلابی دستک دے رھا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ کمزور اور خوفزدہ ملک ھی اپنی بقا کی خاطر اتحاد بناتا ہے اور اِسی لئے تو سعودی عرب کی وھابی چھتری تلے اسلامی شیعتی نظریات و مفادات کو کچلنے کی خاطر بننے والے 34 ملکی اتحاد نے پھلا وار چند دن پھلے اپنے اتحادی ملک نائیجیریا میں کیا۔ جھاں ایک ھزار سے زائد شیعہ مسلمانوں کو فوجی گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔
ملک نائیجیریا کے شیعہ قائد شیخ ابراھیم یعقوب زکزکی کو مع زوجہ اور آخری فرزند محمد کے ساتھ شدید زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، جن کا تاحال کوئی علم نھیں۔ اِس بربریت میں اُن کے تین جوان سال فرزند اور اسلامی تحریک نائیجیریا کے نائب بھی شھید ھوگئے۔
یاد رھے کہ ایک سال پھلے اُن کے تین فرزند پھلے بھی شھید ھوچکے ہیں۔ اب اتحادی سربراہ سعودی عرب نے اپنی سلطنت میں شیعہ قوم کے قائد آیت اللہ شیخ باقرالنمر کا سر قلم کرکے داعش کی طرح اسلامی دنیا کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
چند ماہ پھلے سانحہ مکہ میں ایران کے 464 حجاج کو پری پلان شھید کیا گیا، جس میں چار سفیر اور کئی نامور شخصیات شامل تھیں۔ ھوسکتا ہے کہ اگلا وار شام اور عراق میں داعش کو کچلنے کے نام پر مغربی اتحادیوں کے تعاون سے فضائی حملے یا فوج بھیج کر کیا جائے۔
اللہ کرے پاکستان کی شریف حکومت اور شریف فوج نے جو موقف اپنایا ہے، وھی حقیقت بھی ھو، اندرخانے کوئی اور بات نہ ھو۔ شریف حکومت پر تو شبہ ھوسکتا ہے، کیونکہ سرخ رومال اور ریال کے اُن پر زندگی بھر کے اور زندگی بچانے کے احسانات ہیں، لیکن شریف فوج سے قوم کو قوی اُمید ہے کہ وہ نہ صرف اِس فرقہ وارانہ بنیاد پر بننے والے اتحاد سے دور رھے گی بلکہ آرمی کے دشمن دھشت گردوں کے ساتھ ساتھ شیعہ دشمن دھشت گردوں کو بھی فوجی عدالتوں کے ذریعہ پھانسی کے تختے پر ضرور لے جائے گی۔
تحریر: طاھر عبداللہ
 

Add comment


Security code
Refresh