برطانوی وزیرخارجہ فلیپ ہیمینڈ نے یمن کے خلاف سعودی اتحاد میں برطانوی فوجیوں کی شمولیت کا اعتراف کیا ہے۔
فرانس پریس کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ برطانوی فوجی، یمن میں سعودی عرب اور اس کی اتحادی فوجوں کو حملہ کرنے کے لئے اھداف اور ٹھکانوں کی شناسائی میں مدد دیتے ہیں۔
اس سے پھلے برطانیہ میں انسانی حقوق کی تنظیم ریپریو نے یمن میں عام شھریوں پر سعودی عرب کے حملوں میں برطانوی فوج کی شرکت کے بارے میں برطانوی وزارت دفاع سے باضابطہ جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے یمن پر حملے میں برطانوی فوج کی شرکت کے بارے میں دارالعوام میں بیان دیا ہے لیکن انھوں نے یہ نھیں بتایا کہ یمن پر حملے میں برطانیہ کے کتنے فوجی سعودی عرب کا ساتھ دے رھے ہیں۔
فلیپ ھیمینڈ نے دعوی کیا کہ اس وقت برطانیہ کے فوجی یمن میں موجود ہیں اور سعودی عرب کا ساتھ دے رھے ہیں تاکہ ھمیں یہ اطمینان حاصل ھوسکے کہ یمن میں صرف فوجی ٹھکانوں کو ھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے حیرت انگیز طور پر یہ دعوی بھی کیا کہ یمن میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں کوئی ثبوت نھیں ملا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی مبصرین نے اپنی تحقیقات میں اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن میں اب تک تیس مرتبہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

