قرآن کریم میں اھل بیت(ع) کی شان میں متعدد آیات نازل ھو ئی ھیں جن میں ان کے سید و آقا امیر المو منین(ع) بھی شامل ھیں اُن میں سے بعض آیات یہ ھیں:
۱۔خداوند عالم کا ارشاد ھے:"ذَلِکَ الَّذِی یُبَشِّرُاللهُ عِبَادَہُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًاإِلاَّالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی وَمَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَہُ فِیہَاحُسْنًاإِنَّ اللهَ غَفُورٌشَکُورٌ"۔[۱]
”یھی وہ فضل عظیم ھے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ھے جنھوں نے ایمان اختیار کیا ھے اور نیک اعمال کئے ھیں ،تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کو ئی اجر نھیں چا ہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو اور جو شخص بھی کو ئی نیکی حاصل کرے گا ھم اس کی نیکی میں اضافہ کر دیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدر داں ھے “۔
تمام مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ھے کہ اللہ نے اپنے بندوں پر جن اھل بیت(ع) کی محبت واجب کی ھے ان سے مراد علی(ع) ،فاطمہ ،حسن اور حسین علیھم السلام ھیں ،اور آیت میں اقتراف الحسنہ سے مراد اِن ھی کی محبت اور ولایت ھے اور اس سلسلہ میں یھاں پردوسری روایات بھی بیان کریں گے جنھوں نے اس محبت و مودت کی وجہ بیان کی ھے:
ابن عباس سے مروی ھے :جب یہ آیت نازل ھو ئی تو سوال کیا گیا :یارسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اللہ آپ کے وہ قرابتدارکو ن ھیں جن کی آپ نے محبت ھم پر واجب قرار دی ھے؟
آنحضرت (ص) نے فرمایا :”علی(ع) ،فاطمہ(س)اور ان کے دونوں بیٹے “۔[۲]
جابر بن عبد اللہ سے روایت ھے :ایک اعرابی نے نبی کی خدمت میں آکر عرض کیا :مجھے مسلمان بنا دیجئے تو آپ نے فرمایا:” تَشْھَدُ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ،وَاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ“”تم خدا کی وحدانیت اور محمد کی رسالت کی گو اھی دو میں قرابتداروں کی محبت کے علاوہ اور کچھ نھیں چا ہتا “۔
اعرابی نے عرض کیا :مجھ سے اس کی اجرت طلب کر لیجئے ؟رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”إِلا َّالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی“۔
اعرابی نے کھا :میرے قرابتدار یا آپ کے قرابتدار ؟فرمایا :” میرے قرابتدار “۔اعرابی نے کھا:
میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتا ھوں پس جو آپ اور آپ کے قرابتداروں سے محبت نہ کرے اس پر اللہ کی لعنت ھے ۔۔۔نبی نے فوراً فرمایا :”آمین “۔[۳]
۲۔خداوند عالم کا فرمان ھے:" فَمَنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ اٴَبْنَائَنَاوَاٴَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَاوَنِسَائَکُمْ وَاٴَنْفُسَنَاوَاٴَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَی الْکَاذِبِینَ"۔[۴]
”پیغمبر علم آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ھم لوگ اپنے اپنے فرزند،اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں “۔
مفسرین قرآن اور راویان حدیث کا اس بات پر اجماع ھے کہ یہ آیہ کریمہ اھل بیت ِ نبی کی شان میں نازل ھو ئی ھے ،آیت میں ابناء( بیٹوں) سے مراد امام حسن اور امام حسین عليهما السلام ھیں جوسبط رحمت اور امام ھدایت ھیں ،نساء ”عورتوں “ سے مراد فاطمہ زھرا دختر رسول سیدئہ نساء العالمین ھیں اور انفسنا سے مراد سید عترت امام امیر المو منین(ع) ھیں ۔[۵]
۳۔خداوند عالم کا ارشاد ھے:"ھَلْ اَتیٰ عَلَی الاِنْسَانِ ۔ ۔ ۔" کامل سورہ ۔
مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ھے کہ یہ سورہ اھل بیت ِنبوت کی شان میں نازل ھوا ھے۔[۶]
۴۔خداوند عالم کا فرمان ھے:" إِنَّمَایُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا"۔[۷]
”بس اللہ کا ارادہ یہ ھے اے اھل بیت کہ تم سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے “۔
مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اجماع ھے کہ یہ آیت پانچوں اصحاب کساء کی شان میں نازل ھو ئی ھے [۸]ان میں سرکار دو عالم رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ،ان کے جا نشین امام امیر المو منین(ع) ،جگر گوشہ رسول سیدئہ نسا ء العالمین جن کے راضی ھونے سے خدا راضی ھوتا ھے اور جن کے غضب کرنے سے خدا غضب کرتا ھے ، ان کے دونوں پھول حسن و حسین +جوانان جنت کے سردار ھیں ،اور اس فضیلت میں نہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے خاندان میں سے اور نہ ھی بڑے بڑے اصحاب کے خاندان میں سے ان کا کو ئی شریک ھے۔ اس بات کی صحاح کی کچھ روایات بھی تا ئید کر تی ھیںجن میں سے کچھ روایات مندرجہ ذیل ھیں:
۱۔ام المو منین ام سلمہ کہتی ھیں :یہ آیت میرے گھر میں نازل ھو ئی جبکہ اس میں فاطمہ ،حسن، حسین اور علی علیھم السلام مو جود تھے ،آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اُن پر کساء یما نی اڑھاکر فرمایا :اللَّھُمَّ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاذْھِبْ عنْھمْ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْہِیرًا“”خدایا !یہ میرے اھل بیت ھیں ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جو پاکیزہ رکھنے کا حق ھے “آپ نے اس جملہ کی اپنی زبان مبارک سے کئی مرتبہ تکرار فر ما ئی ام سلمہ سنتی اور دیکھتی رھیں،ام سلمہ نے عرض کیا :یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کیا میں بھی آپ کے ساتھ چادر میں آسکتی ھوں ؟اور آپ نے چادر میں داخل ھونے کےلئے چا در اٹھائی تو رسول نے چادر کھینچ لی اور فر مایا : ”اِنَّکِ عَلیٰ خَیْر“”تم خیر پر ھو “۔[۹]
۲۔ابن عباس سے مروی ھے کہ میں نے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو سات مھینے تک ھر نماز کے وقت پانچ مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب(ع) کے دروازے پر آکر یہ فرماتے سناھے:”السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَیہ" بات شایان ذکر ھے کہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں۱۵،روایات میں مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ھے کہ یہ آیت اھل بیت علیھم السلام کی شان میں نازل ھو ئی ھے ۔
بَرَکَاتُہُ اَھْلَ الْبَیْتِ:" إِنَّمَایُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا>،الصَّلَاةُ یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ“۔
” اے اھل بیت(ع)تم پر سلام اور اللہ کی رحمت وبرکت ھو !”بس اللہ کا ارادہ یہ ھے اے اھل بیت(ع) کہ تم سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے“،نماز کا وقت ھے اللہ تم پر رحم کرے“آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ھر روز پانچ مرتبہ یھی فرماتے۔[۱۰]
۳۔ابو برزہ سے روایت ھے :میں نے سات مھینے تک رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ھمراہ نماز ادا کی ھے جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)بیت الشرف سے باھر تشریف لاتے تو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے دروازے پر جاتے اور فرماتے: ”السَّلامُ عَلَیْکُمْ :"إِنَّمَایُرِیدُ اللهُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمْ الرِّجسَ اٴَہْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا "۔[۱۱]
”تم پر سلام ھو:”بس اللہ کا ارادہ یہ ھے اے اھل بیت کہ تم سے ھر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ھے “
بیشک رسول اللہ کے اس فرمان کا مطلب امت کی ھدایت اور اُن اھل بیت(ع) کے اتباع کوواجب قرار دینا ھے جو امت کو ان کی دنیوی اور اُخروی زندگی میں اُن کے راستہ میں نفع پھنچانے کےلئے ان کی ھدایت کرتے ھیں۔
امام علی[ع] اور نیک اصحاب کے بارے میں نازل ھو نے والی آیات
قرآن کریم کی کچھ آیات امام(ع) اور اسلام کے کچھ بزرگ افراد اور نیک و صالح اصحاب کے سلسلہ میں نازل ھو ئی ھیں ،جن میں سے بعض آیات یہ ھیں:
۱۔خداوند عالم کا ارشاد ھے:"۔۔۔وَعَلَی الْاٴَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلًّابِسِیمَاہُم۔۔"۔[۱۲]
”اور اعراف پر کچھ لوگ ھوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے“۔
ابن عباس سے روایت ھے :اعراف صراط کی وہ بلند جگہ ھے جس پر عباس ،حمزہ ،علی بن ابی طالب(ع) اور جعفر طیار ذو الجناحین کھڑے ھوں گے جو اپنے محبوں کو ان کے چھروں کی نورانیت اور اپنے دشمنوں کو اُن کے چھروں کی تاریکی کی بنا پر پہچان لیں گے ۔[۱۳]
۲۔خداوند عالم کا فرمان ھے:" مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوامَا عَاہَدُوا اللهَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُوَمَابَدَّلُوا تَبْدِیلًا"۔[۱۴]
”مو منین میں ایسے بھی مرد میدان ھیں جنھوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ھے ان میں بعض اپنا وقت پورا کر چکے ھیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کر رھے ھیں اور اُن لوگوں نے اپنی بات میں کو ئی تبدیلی نھیں پیدا کی ھے“۔
اس آیت کے متعلق امیر المو منین(ع) سے اس وقت سوال کیا گیا جب آپ منبر پر تشریف فر ما تھے تو آپ(ع) نے فرمایا:”خدایا ! بخش دے یہ آیت میرے ، میرے چچا حمزہ اور میرے چچا زاد بھا ئی عبیدہ بن حارث کے بارے میں نازل ھو ئی ھے ،عبیدہ جنگ بدر کے دن شھید ھوئے ،حمزہ احد کے معرکہ میں شھید کر دئے گئے لیکن میں اس شقی کے انتظار میں ھوں جو میری اس ”ڈاڑھی اور سر مبارک کوخون سے رنگین کر دے گا “۔[۱۵]
آپ(ع) کے حق اور مخالفین کی مذمت میں نازل ھونے والی آیات
قرآن کریم کی کچھ آیات آپ(ع) کے حق اور اُن مخالفین کی مذمت میں نازل ھو ئی ھیں جنھوں نے آپ(ع) کے سلسلہ میں مروی روایات اور فضائل سے چشم پوشی کی ھے:
۱۔خداوند عالم کا فرمان ھے:" اٴَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر۔۔۔"۔[۱۶]
”کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد الحرام کی آبا دی کو اس جیسا سمجھ لیا ھے جو اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتا ھے اور راہ خدا میں جھاد کرتا ھے ھر گز یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نھیں ھو سکتے اور اللہ ظالم قوم کی ھدایت نھیں کر تا ھے “۔
یہ آیت امیر المو منین(ع) کی شان میں اس وقت نازل ھو ئی جب عباس اور طلحہ بن شیبہ بڑے فخر کے ساتھ یہ بیان کر رھے تھے ۔طلحہ نے کھا :میں بیت اللہ الحرام کا مالک ھوں ،میرے ھی پاس اس کی کنجی ھے اور میرے ھی پاس اس کے کپڑے ھیں ۔عباس نے کھا :میںاس کا سقّہ اور اس کے امور کے سلسلہ میں قیام کرنے والا ھوں ۔امام(ع) نے فرمایا:”ماادری ماتقولون ؟لقدْ صلّیتُ الیٰ القِبْلَةِ سِتَّةَ اَشْھُرقَبْلَ النَّاسِ،واَنا صاحب الجھاد“۔”مجھے نھیں معلوم تم کیا کہہ رھے ھو ؟میں نے لوگوں سے چھ مھینے پھلے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ھے اور میں صاحب جھاد ھو ں “اس وقت یہ آیت نازل ھو ئی ۔[۱۷]
۲۔خدا وند عالم کا فرمان ھے:" اٴَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًاکَمَنْ کَانَ فَاسِقًالَایَسْتَوُون"۔[۱۸]
”کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ھے اس کے مثل ھو جائے گاجو فاسق ھے ھر گز نھیں دونوں برابر نھیں ھو سکتے “۔
یہ آیت امیر المو منین(ع) اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ھو ئی ھے جب وہ اس نے امام(ع) پر فخر و مباھات کرتے ھوئے کھا :میں آپ(ع) سے زیادہ خوش بیان ھوں ،بہترین جنگجو ھوں،اور آپ سے بہتر دشمنوں کو پسپا کر نے والا ھوں “اس وقت امام(ع)نے اس سے فرمایا: ” اسکُتْ، فَاِنَّکَ فَاسِقٌ “ ”خاموش رہ بیشک تو فاسق ھے “،اس وقت دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ھوئی۔[۱۹]
حوالہ جات
[۱] سورہ شوریٰ آیت ۲۳۔
[۲] مجمع الزوائد، جلد ۷، صفحہ ۱۰۳۔ذخائر العقبیٰ، صفحہ ۲۵۔نور الابصار ،صفحہ ۱۰۱۔در المنثور، جلد ۷،صفحہ ۳۴۸۔
[۳] حلیة الاولیاء، جلد ۳،صفحہ ۱۰۲۔
[۴] سورہ آل عمران، آیت ۶۱۔
[۵] تفسیر رازی، جلد ۲،صفحہ ۶۹۹۔تفسیر بیضاوی ،صفحہ ۷۶۔تفسیر کشّاف، جلد ۱،صفحہ۴۹۔تفسیر روح البیان، جلد ۱،صفحہ ۴۵۷۔تفسیر جلالین، جلد ۱،صفحہ ۳۵۔صحیح مسلم، جلد ۲،صفحہ ۴۷۔صحیح ترمذی ،جلد ۲،صفحہ ۱۶۶۔سنن بھیقی ،جلد ۷،صفحہ ۶۳۔مسند احمد بن حنبل، جلد ۱،صفحہ ۱۸۵۔مصابیح السنّة، بغوی، جلد ۲،صفحہ ۲۰۱۔سیر اعلام النبلاء، جلد ۳،صفحہ ۱۹۳۔
[۶] تفسیر رازی، جلد ۱۰، صفحہ ۳۴۳۔اسباب النزول ، واحدی صفحہ۱۳۳۔ روح البیان ،جلد ۶،صفحہ ۵۴۶۔ینابیع المودة ،جلد ۱،صفحہ ۹۳۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۲۷۔امتاع الاسماع ،صفحہ ۵۰۲۔
[۷] سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
[۸] تفسیررازی، جلد ۶، صفحہ ۷۸۳۔صحیح مسلم، جلد ۲،صفحہ ۳۳۱۔الخصائص الکبریٰ ،جلد ۲،صفحہ ۲۶۴۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۸۸۔تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲،صفحہ ۵۔مسند احمد بن حنبل، جلد ۴،صفحہ ۱۰۷۔سنن بیہقی ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۰۔مشکل الآثار ،جلد ۱،صفحہ ۳۳۴۔خصائص النسائی صفحہ ۳۳۔
[۹] مستدرک حاکم، جلد ۲،صفحہ ۴۱۶۔اسدالغابہ، جلد ۵،صفحہ ۵۲۱۔
[۱۰] در منثور ،جلد ۵،صفحہ ۱۱۹۔
[۱۱] ذخائر عقبیٰ ،صفحہ ۲۴۔
[۱۲] سورہ اعراف، آیت ۴۶۔
[۱۳] صواعق محرقہ، صفحہ ۱۰۱۔
[۱۴] سورہ احزاب ،آیت ۲۳۔
[۱۵] صواعق محرقہ ،صفحہ ۸۰۔نورالابصار، صفحہ ۸۰۔
[۱۶] سورہ برائت ،آیت ۱۹۔
[۱۷] تفسیر طبری ،جلد ۱۰،صفحہ ۶۸،تفسیر رازی، جلد ۱۶،صفحہ ۱۱۔در منثور،جلد ۴،صفحہ ۱۴۶۔اسباب النزول، مولف واحدی ،صفحہ ۱۸۲۔
[۱۸] سورہ سجدہ، آیت ۱۸۔
[۱۹] تفسیر طبری ،جلد ۲۱، صفحہ ۶۸۔اسباب نزول واحدی ،صفحہ ۲۶۳۔تاریخ بغداد، جلد ۱۳،صفحہ ۳۲۱۔ریاض النضرہ ،جلد ۲، صفحہ ۲۰۶۔