
مھاراشٹرا کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے پال گھر کے واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کو ناکام بناتے ھوئے کھا ہے کہ پال گھر میں ماب لینچنگ کے واقعے کے حوالے سے ایک سو دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
ھندوستان کی ریاست مھاراشٹر کے علاقے پال گھر میں دو سادھؤں اور ان کے ڈرائیور کے بھیڑ کے ھاتھوں پیٹ پیٹ کر قتل کردئے جانے کے واقعے کو جھاں ایک جانب سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ رنگ دیئے جانے کی کوشش کی جا رھی ہے وہیں مھاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے اس کا انکار کرتے ھوئے کھا ہے کہ سادھؤوں کے قتل کے معاملے میں ایک سو دس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کھنا ہے کہ اس علاقے میں بچہ چوری کی افواہ پھیلی ھوئی تھی ۔
جمعرات کی رات ممبئی سے دو سادھو اور ان کے ڈرائیور سورت جا رھے تھے ۔ پال گھر کے گنزچنچلے نامی گاؤں کے پاس بھیڑ نے بچہ چور ھونے کے شک میں ان کی گاڑی کو روک کر ان کی پٹائی شروع کردی اور پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے دوران پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پھنچا اور دو پولیس اھلکار زخمی ھوئے ہیں ۔ پولیس نے کارروائی کرتے ھوئے ایک سو دس افراد کو گرفتار کرلیا اور علاقے کے دوپولیس اھلکاروں کو برخاست کردیا گیا۔
لیکن اتوار کی شام سے سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے جھوٹ پھیلایا جا رھا ہے اور اس واقعے کو فرقہ وارارنہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رھی ہے جو سراسرغلط ہے ۔
ھندوستان پال گھر میں ماب لینچنگ کے واقعے کو فرقہ واقعہ رنگ دینے کی کوشش ناکام
- Details
- Written by admin
- Category: اھم خبریں
- Hits: 263

